Saturday , September 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / قرآن

قرآن

پس وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے (اور) سوال جواب کریں گے۔ (سورہ الصفّٰت۔۵۰)

پس وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے (اور) سوال جواب کریں گے۔ (سورہ الصفّٰت۔۵۰)
یہاں اہل جنت کی ایک باہمی گفتگو کا ذکر ہو رہا ہے اور اس کا مقصد بھی غافلوں اور سرکشوں کو بروقت متنبہ کرنا ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ عالم آخرت میں دیکھنے اور سننے کی قوتوں کا کیا حال ہوگا۔ جنت میں بیٹھا ہوا ایک جنتی لاکھوں میل بلکہ غیر محدود مسافت پر دوزخ میں ایک دوزخی کو دیکھ بھی لے گا اور اس سے بات بھی کرے گا اور اس کا جواب بھی سن لے گا۔ وہاں نہ ریڈیو، نہ ٹیلی ویژن اور نہ کوئی جدید ترین مواصلاتی آلہ کار فرما ہوگا۔
قرآنی آیات سے پتہ چلتا ہے کہ اہل جنت پر اللہ تعالی کے فضل و کرم کی نوعیت کیا ہوگی، وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے اذن سے دور سے سننا یا دیکھنا اللہ تعالی کی صفت میں شرک نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالی کی صفات میں جس طرح اس دنیا میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا، اسی طرح دار آخرت میں بھی اس کی صفات میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا۔ اگر اہل جنت کی طرح اس دنیا میں اللہ تعالی اپنے بندوں کو یہ قوت سمع و بصر دے دے تو اس کی قدرت و رحمت سے کوئی بعید نہیں۔ یہاں بیٹھ کر اگر ہم درود شریف پڑھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے روضۂ اقدس میں اللہ تعالی کی دی ہوئی طاقت سے سماعت فرما رہے ہیں تو اس سے کوئی شرک لازم نہیں آتا، ورنہ تمام اہل جنت کو شرک فی السمع و البصر کا مرتکب ماننا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT