Wednesday , December 19 2018

قرآن

پس (اے میرے ہم وطنو!) عنقریب تم یاد کرو گے جو میں (آج) تمھیں کہہ رہا ہوں اور میں اپنا (سارا) کام اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ بے شک اللہ تعالی دیکھنے والا ہے (اپنے) بندوں کو۔ (سورۃ المؤمن۔۴۴)

پس (اے میرے ہم وطنو!) عنقریب تم یاد کرو گے جو میں (آج) تمھیں کہہ رہا ہوں اور میں اپنا (سارا) کام اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ بے شک اللہ تعالی دیکھنے والا ہے (اپنے) بندوں کو۔ (سورۃ المؤمن۔۴۴)
فرعون جو اپنے آپ کو الٰہ کہلواتا تھا، اس کے روبرو اور بھرے دربار میں اتنی حق گوئی ایک مرد مؤمن کو ہی زیبا ہے، لیکن جب سامعین کو اس نے متاثر ہوتے نہ دیکھا تو اس نے صاف کہا کہ ’’آج تو تم میری بات نہیں مان رہے اور میری تلخ نوائی تمھیں گراں گزر رہی ہے۔ عنقریب وہ وقت آئے گا، جب عذاب الہٰی تم پر نازل ہوگا اور اس وقت تم میری ان باتوں کو یاد کرو گے۔

تمہارے پاس طاقت و اقتدار ہے اور میں نے مجمع عام میں تمہاری غلط روی پر تمھیں صاف الفاظ میں سرزنش کی ہے۔ مجھے علم ہے کہ تم مجھے میری اس حق گوئی پر عتاب کروگے اور مجھے قتل کرنے سے بھی باز نہ آؤ گے، لیکن مجھے تمہاری ان دسیسہ کاریوں کی ذرا پروا نہیں۔ میں نے اپنے سارے معاملات اللہ کے سپرد کردیئے ہیں، وہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب واقف ہے۔ چنانچہ فرعونیوں نے اس مرد حق کیش کو قتل کرنے کی سازشیں کیں، لیکن وہ سب ناکام رہیں۔ اللہ تعالی نے اپنے بندے کی خود حفاظت فرمائی اور کوئی اس کا بال بیکا نہ کرسکا، الٹا فرعون اپنے لاؤ لشکر اور جاہ و حشمت سمیت غرق کردیا گیا۔ یعنی فرعون اور اس کا لشکر غرق ہو گیا اور حضرت موسی علیہ السلام اپنی قوم کو لے کر سلامتی سے کنارے پہنچ گئے۔

TOPPOPULARRECENT