Saturday , December 15 2018

قربانی قربِ خدا کا ذریعہ

حافظ محمد یعقوب علی خاں قربانی، قرب خداوندی کا ذریعہ، اسلام کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اللہ تعالیٰ کے خلیل و حبیب علیہما الصلوۃ والسلام کی مشترکہ سنت بھی، نیز ابوالانبیاء حضرت سیدنا ابرایم خلیل اللہ علیہ السلام اور آپ کے فرزند ارجمند حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی عظیم یادگار ہے۔

حافظ محمد یعقوب علی خاں

قربانی، قرب خداوندی کا ذریعہ، اسلام کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اللہ تعالیٰ کے خلیل و حبیب علیہما الصلوۃ والسلام کی مشترکہ سنت بھی، نیز ابوالانبیاء حضرت سیدنا ابرایم خلیل اللہ علیہ السلام اور آپ کے فرزند ارجمند حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی عظیم یادگار ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ کو ہرگز ان (قربانیوں) کے نہ گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے‘‘ (سورۃ الحج) ’’پس ان (قربانیوں) میں سے خود کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ‘‘ (سورۃ الحج) ’’(اے محبوب!) تم فرماؤ کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے‘‘۔ (سورۃ الانعام)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’قربانی کے دن ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک قربانی سے زیادہ پیارا نہیں اور قربانی کا جانور بروز قیامت اپنے سینگ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور بے شک قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے وہ خدا کی بارگاہ میں مقام قبول کو پہنچ جاتا ہے، اس لئے قربانی خوش دلی کے ساتھ کرو‘‘۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپﷺ کو معلوم ہوا کہ یہاں کے لوگ سال میں دو دن کھیل کود کرتے اور خوشی مناتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ ’’یہ دو دن کیسے ہیں؟‘‘۔ لوگوں نے عرض کیا: ’’ان دنوں میں ہم لوگ زمانۂ جاہلیت میں خوشیاں مناتے اور کھیل کود کرتے تھے‘‘۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ان دو دنوں کو ان سے بہتر دنوں میں تبدیل کردیا ہے، ان میں سے ایک دن عید الفطر اور دوسرا دن عید الاضحی ہے‘‘۔ (ابوداؤد و مشکوۃ)
حضرت ابوالحویرث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ’’رسول کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے عمرو بن حزم کو، جب کہ وہ نجران میں تھے، لکھا کہ بقرعید کی نماز جلد پڑھو اور عید الفطر کی نماز دیر سے پڑھو اور لوگوں کو وعظ سناؤ‘‘ (مشکوۃ) حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے کہ ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت کے پڑھی اور ایک بار نہیں بلکہ کئی بار پڑھی‘‘۔ (مسلم)

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ’’عید الفطر کے دن حضور علیہ الصلوۃ والسلام جب تک کچھ کھا نہ لیتے عیدگاہ تشریف نہ لے جاتے اور عید الاضحی کے دن اس وقت تک کچھ نہ کھاتے، جب تک کہ نماز (عید الاضحی) نہ پڑھ لیتے‘‘ (ترمذی و ابن ماجہ) حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن دو مختلف راستوں سے آتے جاتے تھے‘‘۔ (بخاری)
واضح رہے کہ عیدین کی نماز کے بعد مصافحہ و معانقہ جیسا کہ عموماً مسلمانوں میں رائج ہے، بہتر طریقہ ہے، اس لئے کہ اس میں اظہار مسرت ہے۔ (بہار شریعت)٭

TOPPOPULARRECENT