Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / قربانی کی ناکارہ اشیاء کی نکاسی کیلئے پلاسٹک تھیلوں کی تقسیم کے باوجود جگہ جگہ گندگی کا انبار

قربانی کی ناکارہ اشیاء کی نکاسی کیلئے پلاسٹک تھیلوں کی تقسیم کے باوجود جگہ جگہ گندگی کا انبار

پولیس اور جی ایچ ایم سی سے انتظامات غیر مؤثر ثابت، بدبو اور تعفن پر عوام کو مشکلات
حیدرآباد۔3ستمبر(سیاست نیوز) شہر میں عیدالاضحی کے موقع پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے صفائی کے خصوصی انتظامات کے علاوہ لاکھوں پلاسٹک کے تھیلوں کی تقسیم کے باوجود بھی شہر کے کچہرے دانوں کے اطراف قربانی کے بعد غلاظت کے انبار دیکھے گئے اور بعض مقامات پر بلدیہ کی جانب سے صفائی کے بعد بھی کچہرا پھینکے جانے کے سبب دوبارہ حالات جوں کے توں ہو گئے۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق شہر میں 1لاکھ 49ہزار پلاسٹک کے تھیلے تقسیم کئے گئے تھے اور 464خصوصی گاڑیوں کے ذریعہ کچہرے دانوں کے قریب سے کچہرا ہٹانے کیلئے انتظامات کو ممکن بنایا گیا تھا۔بلدی عہدیداروں نے بتایا کہ بقر عیدکے پہلے دن رات دیر گئے تک محکمہ پولیس کے تعاون سے بلدیہ نے 1716میٹرک ٹن کچہرے کی منتقلی انجام دی لیکن اس کے باوجود بھی شہر کے رہائشی علاقو ںمیں کچہرے کی موجودگی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہریوںمیں اس بات کا احساس نہیں رہا کہ بلدیہ کی جانب سے کئے جانے والے انتظامات ان کے حق میں بہتر ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے فراہم کی جانے والی اطلاعات درست نہیں ہیں کیونکہ شہر کے کئی علاقوں میں آج بھی بدبو و تعفن برقرار رہی اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کمشنر جی ایچ ایم سی ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی نے بتایا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں صبح 9بجے سے ہی صفائی اور کچہرے کی منتقلی کا عمل شروع کردیا گیا تھا اور کچہرے کی منتقلی اور کنڈیوں کی صفائی کو ممکن بنانے کے لئے محکمہ پولیس کے عہدیداروں سے تعاون حاصل کرتے ہوئے اضافی عارضی عملہ کی بھی خدمات حاصل کی گئی تاکہ فوری صفائی کو ممکن بنایا جائے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے کئے جانے والے انتظامات کے باوجود شہر میں گندگی پر شہریوں نے ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ صبح کی اولین ساعتوں میں محکمہ پولیس اور بلدیہ کے عہدیداروں نے صفائی کرواتے ہوئے تصویر کشی کا عمل مکمل کرلیا لیکن اس کے بعد پھینکے جانے والے کچہرے کو ہٹانے کے کوئی انتظامات نہیں کئے گئے جس کے سبب رہائشی علاقو ںمیں صورتحال جوں کی توں برقرار ہے۔ دونوں شہروں کے مسلم غالب آبادی والے علاقو ںمیں عیدالاضحی کے دوسرے دن میں صفائی کے نامناسب انتظامات کی شکایات موصول ہوئی جن میں پرانے شہر کے علاوہ نئے شہر اور قلعہ گولکنڈہ کے کئی علاقہ شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT