Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / قرض اور سبسیڈی پر تلنگانہ کونسل میں مباحث

قرض اور سبسیڈی پر تلنگانہ کونسل میں مباحث

کسانوں کے اموات پر اظہار افسوس ، کے ٹی آر اور محمد علی شبیر میں گرما گرم بحث
حیدرآباد ۔ 21 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ قانون ساز کونسل میں ریاستی وزیر کے ٹی آر اور قائد اپوزیشن محمد علی شبیر کے درمیان ٹھن گئی ۔ کانگریس کی جانب سے تلنگانہ بھیک میں دینے کا محمد علی شبیر نے دعویٰ کیا ۔ صفایا ہوجانے کے خوف اور عوامی احتجاج سے مجبور ہو کر علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کا کے ٹی آر نے کانگریس پر الزام عائد کیا ۔ آج کونسل میں زراعت ، قرضوں کی معافی اور اینٹ سبسیڈی کے موضوع پر مختصر مباحث کے درمیان قائد اپوزیشن محمد علی شبیر اور ریاستی وزیر آئی ٹی کے ٹی آر کے درمیان ایک سے زائد مرتبہ لفظی جھڑپ ہوگئی ۔ محمد علی شبیر نے ریاست میں غذائی اجناس کی پیداوار 59 فیصد گھٹ جانے اور کسانوں کو اعتماد میں لینے اور خود کشی کرنے والے کسانوں کے ارکان خاندان کو ایکس گریشیا دینے میں ناکام ہوجانے کا حکومت پر الزام عائد کرتے ہی ریاستی وزیر کے ٹی آر نے محمد علی شبیر کو تنقید برائے تنقید نہ کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کسانوں کی اموات پر ٹی آر ایس کو بھی افسوس ہے ۔ کانگریس کے دور حکومت میں صرف دیڑھ لاکھ روپئے ایکس گریشیا دیا جاتا جس کو بڑھا کر ٹی آر ایس حکومت نے 6 لاکھ روپئے کردیا ہے ۔ جب محمد علی شبیر وزیر برقی تھے اس وقت دن میں 6 گھنٹے برقی تین وقفہ میں دیا جاتا تھا ۔ ٹی آر ایس حکومت بغیر کسی کٹوتی کے 9 گھنٹے مفت برقی سربراہ کررہی ہے ۔ کانگریس کے دور میں تخم اور بیج کے لیے کسانوں کو قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا تھا ۔ کانگریس نے صرف ایک مرتبہ تلنگانہ کسانوں کے 4 ہزار کروڑ روپئے کے برقی بقایا جات معاف کیا ہے ۔ جب کہ ٹی آر ایس حکومت ہر سال 4 ہزار کروڑ روپئے کے برقی بقایا جات معاف کررہی ہے ۔ ان ریمارکس کے دوران کے ٹی آر اور محمد علی شبیر میں نوک جھونک ہوگئی اور محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے بھیک میں تلنگانہ دیا ہے ۔ جس پر کے ٹی آر نے کہا کہ ہم نے عوامی احتجاج کے ذریعہ علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کیا ہے ۔ قومی جماعت کانگریس علاقائی جماعت میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ تلنگانہ سے بھی کانگریس کا صفایا ہوجانے کے ڈر سے کانگریس پارٹی علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کے لیے مجبور ہوئی ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اسمبلی میں قائد اپوزیشن جانا ریڈی علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دے کر افسوس کا اظہار کررہے ہیں اور کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر تلنگانہ بھیک میں دینے کا ریمارکس کرتے ہوئے تلنگانہ کے لیے جان کی قربانی دینے والے مجاہدین کی توہین کررہے ہیں ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مجاہدین تلنگانہ کو ایکس گریشیا فراہم کرنے میں ٹی آر ایس حکومت ناکام ہوگئی ۔ کے ٹی آر نے نوجوانوں کی موت کے لیے کانگریس کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعجب کی بات ہے ۔ قاتل مجاہدین کو تعزیت پیش کررہا ہے ۔ اس بحث و تکرار کے دوران چیف وہپ سدھاکر ریڈی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مجاہدین تلنگانہ کے لیے 10 لاکھ بڑی رقم جاری کرنے کا دعویٰ کیا ۔ محمد علی شبیر نے 10 لاکھ کو بڑی رقم قرار دینے پر شرم کرو کا ریمارکس کیا جس پر شور و غل پیدا ہوگیا ۔ صدر نشین کونسل سوامی گوڑ نے بھیک اور شرم کے ریمارکس کو ریکارڈ سے حذف کردینے کا اعلان کیا ۔ ریاستی وزیر کے ٹی آر نے تلنگانہ کی موجودہ صورتحال کے لیے کانگریس کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس 100 چوہے کھا کر حج کو جانے جیسا مظاہرہ کررہی ہے ۔ جس پر محمد علی شبیر نے ترقی کو کانگریس کی مرہون منت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس ماموں کے مٹھائی کی دوکان پر پھوپا کے فاتحہ دینے کی کوشش کررہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT