Sunday , July 22 2018
Home / مضامین / قصۂ درد سناتے ہیں کہ … شری کے ٹی راما راؤ کے نام کھلا خط

قصۂ درد سناتے ہیں کہ … شری کے ٹی راما راؤ کے نام کھلا خط

 

عالیجناب کے ٹی راما راؤ صاحب
وزیر برائے این آر آئیز امور و انفارمیشن ٹکنالوجی ، تلنگانہ
روزنامہ سیاست کے اس کالم کی وصاطت سے ہم خلیجی ممالک میں کام کرنے والے این آر آئیز کے مسائل سے آپ کو مسلسل باخبر رکھتے آئے ہیں۔ خصوصاً ہمارے پچھلے دو کالمس میں ہم نے آنے والے چند ماہ میں خلیجی ممالک اور خصوصاً سعودی عرب میں خارجی باشندوں کے حق میں بدترین حالات کے پیدا ہونے کے بارے میں ساری تفصیلات پیش کی تھیں اور حکومت تلنگانہ کو این آر آئیز کے بارے میں جو خلیجی ممالک سے وطن واپس ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں کی وطن میں بازآبادکاری کے سلسلہ میں ٹھوس اور فوری اقدام کی گزارش کی تھی ۔ واضح رہے کہ سعودی عرب یا گلف کے دیگر پانچ ممالک میں ریاست کیرالا کے بعد سب سے بڑی تعداد ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے باشندوں کی ہے ۔ سعودی عرب میں کام کرنے والے جملہ 32 لاکھ ہندوستانیوں میں ایک اندازے کے مطابق کم از کم 10 تا 12 لاکھ ریاست تلنگانہ کے باشندے ایسے ہوں گے جن کی ملازمت کو خطرہ لاحق ہے اور انہیں جلد وطن لوٹنا پڑے گا ۔ یہ تعداد صرف گلف کے ایک ملک سعودی عرب کی ہے جبکہ گلف کے دیگر پانچ ممالک میں بھی خارجی کارکنان کی صورتحال اسی طرح کی ہے ۔ اس طرح وطن لوٹنے پر مجبور ہونے والے باشندوں کی تعداد بہت بڑی ہوجائے گی۔
ہم اس بات سے واقف ہیں کہ حکومتِ تلنگانہ نے جاریہ سال کے بجٹ میں خلیجی این آر آئیز کی فلاح و بہبود کی اسکیمات کی عمل آوری کیلئے 100 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تلنگانہ این آر آئیز کیلئے حکومت نے ایک جامع پروگرام مرتب کیا ہے لیکن اس 100 کرو ڑ کی رقم کے خرچ کے بارے میں رہنمایانہ خطوط اور این آر آئیز کیلئے مرتب جامع پروگرام کی تفصیل حکومت کی جانب سے ابھی واضح نہیں کی گئی ۔ بہر حال این آر آئیز کیلئے حکومت کے ان ہمدردانہ اقدام کیلئے تلنگانہ این آر آئیز مشکور ہیں اور ہم چیف منسٹر تلنگانہ شری کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے قومی مفاد میں اٹھائے جانے والے قدم اور فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کے ارادوں کی تائید اور ستائش کرتے ہیں۔
ہم تلنگانہ این آر آئیز کی ترجمانی کرتے ہوئے حکومت سے تلنگانہ این آر آئیز کی فلاح و بہبود اور بازآبادکاری کے سلسلے میں درجہ ذیل چند تجاویز پیش کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ حکومت تلنگانہ ان تجاویز پر ہمدردانہ غور کرے گی۔
تلنگانہ این آر آئیز امور کی نگران وزارت میں ماہرین پر مشتمل ایک خصوص گروپ تشکیل دیا جائے جس میں عوامی نمائندے ، اعلیٰ سرکاری عہدیدار شامل ہوں۔ یہ گروپ تفصیل اور گہرائی سے خلیجی این آر آئیز کے مسائل کا جائزہ لے اور عاجلانہ رپورٹ تیار کرے جس میں مسائل کا ٹھوس حل پیش کیا گیا ہو ۔ یہ گروپ این آر آئیز اور خلیجی ممالک کے مقامی باشندوں کی جانب سے ریاست تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ بھی ہے۔
خلیجی ممالک سے اپنی ملازمتیں کھوکر وطن لوٹنے والے تلنگانہ این آر آئیز کی فوری بازآبادکاری کو ممکن بنایا جائے۔
ریاست تلنگانہ میں ایک ’’گلف این آر آئیز ویلفیر اینڈ انوسمنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا جائے جو این آر آئیز کی بہبود اور ترقی میں معاون ثابت ہو۔
تلنگانہ این آر آئیز کیلئے ہاؤزنگ اسکیم کا قیام ۔ یہ اسکیم ریاست کے تمام اضلاع میں قائم ہواور این آر آئیز کے پاسپورٹ میں درج پتہ کے مطابق ان کو ہاؤزنگ اسکیم میں رجسٹر کیا جائے۔
خلیجی ممالک میں قانونی مسائل میں الجھے ہوئے این ار آئیز کیلئے مرکزی حکومت سے سفارش کی جائے کہ وہ انہیں قانونی امداد کا انتظام کرے جس کا اہتمام ان ممالک میں قائم ہندوستانی سفارت خانے میں کیا جاسکتا ہے۔
خلیجی ممالک میں بیروزگاری کا شکار اور دیگر معاشی پریشانیوں سے دوچار این آر آئیز کو ہندوستانی سفارت خانوں میں موجود ’’کمیونٹی ویلفیر فنڈ‘‘ سے مالی امداد فراہم کی جائے ۔ اس کیلئے بھی ریاستی حکومت کو مرکز کو تجویز روانہ کرنی پڑے گی ۔
تعلیمی سال کے درمیان وطن لوٹنے والے این آر آئیز طالب علموں کو اسکولس میں فوری داخلہ کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کا وقت ضائع نہ ہو اور تعلیم بھی خراب نہ ہو۔ واضح رہے کہ خلیجی ممالک کے تعلیمی سال اور یہاں کے تعلیمی سال کے آغاز میں کچھ ماہ کا فرق ہوتا ہے لیکن یہاں تعلیم حاصل کرنے والے بچے انڈین نصاب (CBSE) ہی پڑھتے ہیں۔
خلیجی ممالک سے لوٹنے والے طلباء کو این آر آئیز اسٹوڈنٹ تصور نہ کیا جائے کیونکہ یہاں برسرکار ان کے والدین ہندوستانی باشندے درحقیقت Contract Workers ہیں۔ انہیں NRI’s کے زمرے میں شمار کرنا درست نہیں کیونکہ خارجی باشندے چاہے کتنا ہی طویل عرصہ یہاں کام کریں، انہیں ایک دن یہاں سے واپس جانا ہی ہوتا ہے۔ یہاں خارجی باشندوں کو شہریت حاصل ہونے کا کوئی امکان بھی نہیں ہوتا ۔ حتیٰ کہ یہاں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی کوئی مراعات حاصل نہیں ہوتی۔
ریاست تلنگانہ کے تعلیمی اداروں میں خلیجی ممالک میں برسرکار یا وطن واپس آنے والے باشندوں کے بچوں کو تعلیمی اداروں میں ریزرویشن دیا جائے۔
تلنگانہ Infrastructure Corporation میں خلیجی این آر آئیز کیلئے ایک خصوصی Cell قائم کیا جائے اور انہیں ریاست کے عام شہریوں کے مقابلے کچھ زیادہ مراعات اور سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ آسانی سے اپنا کوئی کاروبار یا صنعت قائم کرسکیں۔
حکومت تلنگانہ ان تجاویز پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے ان پر عمل آوری کی ہدایت جاری کرے تو خلیجی ممالک سے لوٹنے والے ریاست تلنگانہ کے پریشان حال باشندوں کو راحت حاصل ہوگی اور وہ اپنے وطن میں قدم جمانے میں آسانی سے کامیاب ہوسکیں گے ۔ اسی ہفتہ سعودی عرب کے مختلف شہروں میں قائم سماجی تنظیموں کے اراکین کے ایک بڑے گروپ نے حکومت تلنگانہ کے مشیر جناب عبدالقیوم خاں سے ملاقات کر کے ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے خلیجی این آر آئیز کے مسائل پر نمائندگی کی تھی ۔ وزیر برائے این آر آئیز امور و انفارمیشن ٹکنالوجی شری کے ٹی راما راؤ سے اس کھلے خط کے ذریعہ نمائندگی بھی خلیجی ممالک کے مختلف سماجی تنظیموں اور کارکنان کی جانب سے کی جانے والی کاوشوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وزیر موصوف اس سلسلے میں جلد مثبت قدم اٹھاکر خلیجی این آر آئیز کو راحت بخشیں گے ۔ نیز ہم حکومت سے گزارش کریں گے کہ حکومت نے خلیجی این آر آئیز کی فلاح و بہبود کیلئے جو جامع پروگرام تیار کیا ہے (جس کا ذکر حالیہ اسمبلی سیشن میں کیا گیا) ، اس کا جلد اعلان کرے اور جاریہ اجلاس میں بجٹ میں جو 100 کرو ڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے اس کی تفصیلات بھی جاری ہوں تو خلیجی این آر آئیز کو مزید راحت ملے گی۔
ایک آخری بات کہ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں باشندوں نے پچھلے چار دہائیوں سے زائد عرصہ سے یہاں کام کر کے ملک کیلئے ایک ثیر رقم بشکل زرمبادلہ فراہم کیا ۔ ملک پر بوجھ بنے بغیر ہم نے ملک کیلئے یہ کثیر دولت پیدا کی ۔ لہذا آج جب ہم لاکھوں این آر آئیز پر مصیبت آن پڑی ہے تو یہ ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم اپنی حکومت سے ہماری مدد کی مانگ کریں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آزمائش کی اس گھڑی میں مرکزی و ریاستی حکومتیں ہماری مدد کیلئے فوری طور پر قدم بڑھائیں گی۔

TOPPOPULARRECENT