’’قصہ کرسی کا‘‘ قرعہ اندازی تقریب میں نشستوں کے مسئلہ پر ناراضگی

ڈپٹی چیف منسٹر کی مداخلت
حیدرآباد ۔ 10 ۔اپریل (سیاست نیوز) ’’قصہ کرسی کا‘‘ یہ محاورہ تو ہر کسی نے سنا ہوگا لیکن اس کا عملی نمونہ آج اس وقت دیکھنے کو ملا جب مکہ مکرمہ کی نظام رباط میں عازمین حج کے قیام کیلئے قرعہ اندازی کی تقریب منعقد کی گئی۔ سیاستداں ہو یا عہدیدار ہر کسی کو کرسی عزیز ہے اور کوئی چاہتا ہے کہ وہ لیم لائیٹ میں رہے۔ تقریب کے آغاز سے قبل پروٹوکول کے مطابق نشستوں کا انتظام نہ کئے جانے پر بعض افراد ناراض ہوگئے۔ ایک مرحلہ پر صدرنشین تلنگانہ حج کمیٹی نے تقریب کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا ۔ تاہم ڈپٹی چیف منسٹر کی مداخلت کے بعد وہ اپنے فیصلہ سے دستبردار ہوگئے۔ حج کمیٹی کے عہدیداروں نے پروٹوکول کے مطابق نشستوں کا انتظام کرتے ہوئے نیم پلیٹس لگا دیئے تھے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے ایک جانب نظام اوقاف کمیٹی کے صدر نواب خیرالدین علی خاں کو جگہ دی گئی تو دوسری طرف حکومت کے مشیر اے کے خاں کی نشست رکھی گئی ۔ ان کے بعد صدرنشین حج کمیٹی ، مقامی رکن اسمبلی اور پھر صدرنشین وقف بورڈ کی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ صدرنشین وقف بورڈ کو بحیثیت رکن وقف بورڈ مدعو کیا گیا لہذا عہدیداروں نے ان کی نشست درمیان میں نہیں رکھی۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ پہنچے اور صدرنشین حج کمیٹی مسیح اللہ خاں کو ان کی نشست سے اٹھادیا اور خود بیٹھ گئے۔ اس صورتحال سے ناراض مسیح اللہ خاں تقریب کے مقام سے باہر نکل گئے۔ حکومت کے مشیر اے کے خاں اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے پروٹوکول کی خلاف ورزی اور صدرنشین حج کمیٹی کے ساتھ رویے پر ناراضگی جتائی ۔ صدرنشین حج کمیٹی ارکان کے ساتھ بیٹھ گئے لیکن ڈپٹی چیف منسٹر نے قرعہ اندازی کے وقت انہیں اپنے پاس بلالیا ۔ اس طرح تقریب کے دوران نشستوں کے مسئلہ پر کئی افراد ناراض دکھائی دیئے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی رکن اسمبلی نے بھی ان کے نیم پلیٹ ہٹائے جانے پر اعتراض کیا۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اقلیتی بہبود کی تقاریب میں کرسی کے مسئلہ پر سیاسی قائدین اور عہدیداروں کے درمیان مسابقت ہوتی ہے اور ہر کوئی کیمرے کے نگاہ میں رہنا چاہتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT