Sunday , December 17 2017
Home / مذہبی خبریں / قصیدہ بردہ، مقصد براری کیلئے مجرب اور عشق رسول ؐ کے حصول کا ذریعہ

قصیدہ بردہ، مقصد براری کیلئے مجرب اور عشق رسول ؐ کے حصول کا ذریعہ

قصیدہ بردہ شریف کانفرنس اور رسم اجراء کتاب سے علماء کرام کا خطاب
حیدرآباد ۔ 26 ستمبر (راست) ابوالفداء اسلامک ریسرچ سنٹر کے زیراہتمام حضرت العلامہ پروفیسر ڈاکٹر ابوالفداء محمد عبدالستار خان نقشبندی مجددی قادری کے تیسرے عرس شریف کے موقع پر قصیدہ بردہ شریف کانفرنس، مسجد حضرت سید شاہ فیض اللہ حسینی ؒ، شکرگنج زیرنگرانی استاد الاساتذہ مفتی محمد عظیم الدین، صدر مفتی جامعہ نظامی منعقد ہوئی۔ عمدۃ المحدثین العلامہ محمد خواجہ شریف، شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ نے کتاب ’’قصیدہ بردہ شریف معہ نعت و منقبت‘‘ کی رسم اجراء انجام دی، جس کو مولانا ابورجاء سید شاہ حسین شہیداللہ بشیر بخاری خلیفہ حضرت ابوالفداء نے ترتیب دیا ہے۔ مولانا ڈاکٹر شیخ احمد محی الدین شرفی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ قصیدہ بردہ شریف عربی زبان کا بہترین شاہکار ہے جو ساری دنیا میں مشہور ہے اور مکمل پڑھا جاتا ہے۔ قصیدہ بردہ چاہے سمجھ میں آئے یا نہ آئے اس کے سننے اور پڑھنے سے ایک عجیب لذت محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر محمد مصطفی شریف نے کہا کہ قصدہ بردہ مقصد براری کیلئے بہت ہی مجرب ہے۔ اس کو جس مقصد سے پڑھا جائے وہ انشاء للہ پورا ہوگا بلکہ اس قصیدہ کے بعض اشعار ایسے ہیں جن کو بطور وظیفہ پڑھایا جائے تو گوہر مقصود حاصل ہوتا ہے۔ قصیدہ بردہ کے فضائل و برکات کے حصول کیلئے خواص و عوام پڑھنے، یاد کرنے اور شروحات لکھنے کا اہتمام رکھا ہے۔ داعی کانفرنس اور مرتب کتاب ابورجاء سید شاہ حسین شہیداللہ بشیر نے کہا کہ 10 فصلوں پر مشتمل 166 اشعار کا عشق رسول میں ڈوبا ہوا قصیدہ ساری دنیا میں بصدادب و احترام پڑھا اور سنا جاتا ہے کیونکہ اس قصیدہ مبارکہ کو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پسند فرمایا اور امام بوصیری کو اپنے دیدار مبارک سے مشرف فرمایا۔ چادر مبارک عنایت کی، امام بوصیری کے جسم پر اپناد ست مبارک پھیرا، جس سے ان کا فالج دور ہوگیا۔ نیند سے بیدار ہونے پر وہ مبارک چادر بھی موجود تھی۔ اس مبارک قصیدہ سے آفات و بلیات دور ہوتے ہیں۔ سب سے بڑی بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار مبارک سے مشرف ہوتے ہیں۔ قصیدہ بردہ کو جو مقبولیت حاصل ہوئی کسی اور قصیدہ کو حاصل نہ ہوسکی۔ قصیدہ بردہ کو اہل اللہ کی پاکیزہ محافل میں پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ مولانا سید احمد غوری نے کہا کہ امام بوصیری مہ 13 سال کی عمر میں حفظ قرآن کی تکمیل فرمائی۔ دیگر علوم تفسیر، علم حدیث، سیر، علم کلام اور دیگر اسلامی علوم میں کمال حاصل کیا۔ یہی وجہ ہیکہ آپ کے کلام میں بکثرت اصلاحات و تلمیحات کا استعمال آپ کے علمی کمال کو ظاہر کرتا ہے۔ کانفرنس میں بحیثیت مہمانان خصوصی شرکت کرنے والوں میں مولانا ڈاکٹر شیخ محمد عبدالغفور، مولانا سید شاہ غوث محی الدین سہیل بخاری، مولانا سید شاہ افتخار علی محی الدین ابوالعلائی، ڈاکٹر محمد عماد الدین، ڈاکٹر حسن محمد نقشبندی، مولانا علی محمد، مولانا منظور احمد، مولانا انور محی الدین، ڈاکٹر محمد عبدالرحیم، محمد سعداللہ خان وغیرہ نے شرکت کی۔ جلسہ کا آغاز جامعہ نظامیہ کی جماعت بردہ شریف اور قرأت حافظ محمد خاں نقشبندی اور ڈاکٹر طیب پاشاہ قادری، قاری اسداللہ شریف، غلام غوث خاں نقشبندی اور وسیم الہامی نے نعت شریف پیش کی۔ علی الدین احمد، قاری عبدالقدیر، سید عبدالمغنی ارشد، نوید اشرف اور محسن خاں نے انتظامات میں حصہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT