Wednesday , December 19 2018

قضاۃ ریکارڈ کو کچرے دان کی نذر کرنے پر اعلیٰ عہدیداروں کا سخت گیر رویہ

حیدرآباد ۔ 4 ۔ مارچ (سیاست نیوز) وقف بورڈ میں محکمہ قضاۃ کے ریکارڈ کو کچرے دان کی نذر کرنے سے متعلق سیاست میں شائع شدہ رپورٹ پر اعلیٰ عہدیداروں نے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جلال الدین اکبر نے اس سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ کے عہدیداروں سے مشاورت کی اور ریکارڈ کے تحفظ کی ذمہ داری میں ناکام 4 اف

حیدرآباد ۔ 4 ۔ مارچ (سیاست نیوز) وقف بورڈ میں محکمہ قضاۃ کے ریکارڈ کو کچرے دان کی نذر کرنے سے متعلق سیاست میں شائع شدہ رپورٹ پر اعلیٰ عہدیداروں نے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جلال الدین اکبر نے اس سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ کے عہدیداروں سے مشاورت کی اور ریکارڈ کے تحفظ کی ذمہ داری میں ناکام 4 افراد کی نشاندہی کی گئی جنہیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان میں دو کا تعلق قضاۃ اور دو کا ریکارڈ سیکشن سے ہے۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ نے دارالقضاۃ کے عہدیداروں اور ملازمین کی لاپرواہی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو دارالقضاۃ کا کوئی بھی ریکارڈ محفوظ نہیں رہے گا۔ وقف بورڈ نے دارالقضاۃ کے ریکارڈ کے تحفظ کیلئے 4 ملازمین کو الاٹ کیا تھا، جن میں سے دو کام کر رہے ہیں۔ اسپیشل آفیسر نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر سلطان محی الدین سے اس بارے میں معلومات حاصل کیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ دارالقضاۃ کے ریکارڈ کے تحفظ کیلئے کوئی دلچسپی نہیں لی جارہی ہے اور ریکارڈ روم میں سارا ریکارڈ بکھرا پڑا ہے۔ اسپیشل آفیسر نے دارالقضاۃ کے علاوہ وقف بورڈ کے ریکارڈ کے تحفظ کیلئے بھی سخت ہدایات جاری کیں۔ واضح رہے کہ روزنامہ سیاست نے دارالقضاۃ کے حالیہ عرصہ کے ریکارڈ کو کچرے دان کی نذر کرنے کے بارے میں تصویر کے ساتھ رپورٹ شائع کی۔ بتایا جاتا ہے کہ بیشتر ریکارڈ دیمک کی غذا بن چکا ہے اور دارالقضاۃ کے ملازمین کو صرف سرٹیفکٹس کی اجرائی سے دلچسپی ہے جو کہ آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔ سرٹیفکٹس کی اجرائی کیلئے درخواست گزار مختلف دستاویزات کے ساتھ درخواست داخل کرتے ہیں لیکن انہیں بحفاظت رکھنے کا کوئی نظم نہیں جبکہ قاضیوں کے پاس 100 سال پرانا ریکارڈ بھی محفوظ رہتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT