Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / قطب شاہی مساجد کے تحفظ اور دیکھ بھال میں محکمہ آثارقدیمہ ناکام

قطب شاہی مساجد کے تحفظ اور دیکھ بھال میں محکمہ آثارقدیمہ ناکام

حیدرآباد ۔ 18 مارچ (نمائندہ خصوصی) ریاستی محکمہ آثار قدیمہ کے بارے میں متحدہ ریاست آندھراپردیش میں یہی شکایات عام ہیں کہ اس کے عہدیدار اپنی مجرمانہ غفلت کے ذریعہ تاریخی آثار کی تباہی و بربادی کا باعث بن رہے ہیں۔ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل سے قبل بھی ریاستی محکمہ آثار قدیمہ خاص طور پر مسلم حکمرانوں کے تعمیر کردہ تاریخی آثار بشمول م

حیدرآباد ۔ 18 مارچ (نمائندہ خصوصی) ریاستی محکمہ آثار قدیمہ کے بارے میں متحدہ ریاست آندھراپردیش میں یہی شکایات عام ہیں کہ اس کے عہدیدار اپنی مجرمانہ غفلت کے ذریعہ تاریخی آثار کی تباہی و بربادی کا باعث بن رہے ہیں۔ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل سے قبل بھی ریاستی محکمہ آثار قدیمہ خاص طور پر مسلم حکمرانوں کے تعمیر کردہ تاریخی آثار بشمول مساجد کے تحفظ میں ناکام رہا اور اس کا سلسلہ علحدہ ریاست تلنگانہ میں بھی جاری ہے۔ ہمارے تاریخی شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو ہندوستان کے ایک ایسے شہر کا اعزاز حاصل ہے جہاں سب سے زیادہ تاریخی و قدیم مساجد پائی جاتی ہیں جن میں عادل شاہی، قطب شاہی، مغل شاہی (اورنگ زیب عالمگیر کے دور) اور آصف جاہی دور کی مساجد شامل ہیں لیکن ڈپارٹمنٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیمس کی ناقص کارکردگی اس کے عہدیداروں کی اپنے فرائض سے کوتاہی کے نتیجہ میں آج ان قدیم و تاریخی مساجد اور تاریخی آثار کی حالت انتہائی خراب ہے۔ ان غیرآباد مساجد کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں جس کے باعث اشرار لینڈ گرابرس ان پر قبضے کرنے پرتول رہے ہیں۔ مساجد کے تحت جو اراضیات نہیں ان میں سے تقریباً ہی مساجد کی اراضات پر ناجائز قبضے کرتے ہوئے بستیاں بسا دی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ سرکاری دفاتر بھی قائم کردیئے گئے ہیں۔

اب اس بات کا انکشاف ہوا ہیکہ ریاستی محکمہ آثار قدیمہ کے ہاں عملہ کی شدید قلت ہے جس کے نتیجہ میں قطب شاہی دور کی مساجد و آثارقدیمہ کی صحیح طور پر دیکھ بھال نہیں ہو پارہی۔ حال ہی میں صدر گلشن کالونی ویلفیر اسوسی ایشن مسٹر ایم اے قدیر صدیقی نے شیخ پیٹ چوراہے پر واقع تاریخی قطب شاہی مسجد کی حالت زار اور اس سے محکمہ آثار قدیمہ کی لاپرواہی پر افسوس کا اظہار قانون حق معلومات کے تحت داخل کردہ ایک درخواست میں کیا۔ محکمہ آثارقدیمہ نے جناب ایم اے قدیر کی درخواست مورخہ 22 جنوری 2015ء کے جواب میں اس بات کا اعتراف کیا ہیکہ آندھراپردیش کی تقسیم اور علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے نتیجہ میں فی الوقت محکمہ آثارقدیمہ حکومت تلنگانہ کو عملہ کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کے باعث وہ تاریخی آثار اور فن تعمیر کی شاہکار مساجد و عمارتوں کے تحفظ پر مؤثر طور پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔

جواب میں مزید بتایا گیا کہ شیخ پیٹ کے اس روڈ پر واقع قطب شاہی مسجد کا اے پی اے ایچ ایم اور اے ایس آر ایکٹ 1960ء کے تحت ریاستی محکمہ آثار قدیمہ تحفظ کررہا ہے۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ درخواستگذار نے 7 مرتبہ نمائندگیاں کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن اسے صرف 2 نمائندگیاں وصول ہوئی ہیں اور وہ بھی علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ان درخواستوں میں شیخ پیٹ کراس روڈ پر واقع قطب شاہی مسجد کی درستگی تزئین نو اور ان پر اگ آئے درختوں کے علاوہ ناجائز قبضوں کی برخاستگی پر زور دیا گیا تھا۔ محکمہ آثار قدیمہ کے جواب میں واضح طور پر کہا گیا کہ جہاں تک مذکورہ قطب شاہی مسجد کی دیکھ بھال درستگی کا سوال ہے۔ عملہ کی قلت نے اس کام کو مشکل بنادیا ہے۔ دونوں ریاستوں میں ملازمین کی تقسیم کا عمل مکمل نہیں ہوا۔ حد تو یہ ہیکہ محکمہ اس مسجد پر ایک واچ مین یا نگرانکار متعین کرنے کے موقف میں تک نہیں ہے۔ اس کے باوجود محکمہ اس مسجد کے تحفظ اور اس کے تزئین نو کو یقینی بنانے کیلئے ایک تخمینہ تیار کررہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT