Saturday , August 18 2018
Home / Top Stories / قطربحران کے خاتمہ کیلئے ٹرمپ کا کیمپ ڈیوڈ اجلاس کے انعقاد پر اصرار

قطربحران کے خاتمہ کیلئے ٹرمپ کا کیمپ ڈیوڈ اجلاس کے انعقاد پر اصرار

سعودی ، امارات اور بحرینی قائدین کو شرکت کی
مشروط دعوت
امریکہ تینوں ممالک کے ردعمل کا منتظر
جاریہ ماہ کے وسط میں سعودی ولیعہد اور امارات
ولیعہد کا دورہ امریکہ اہمیت کا حامل

واشنگٹن ۔ 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ خلیج فارس کے قائدین کو امریکہ سے اظہاریگانگت کے لئے کیمپ ڈیوڈ میں دکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس اظہاریگانگت کے لئے ایک شرط بھی رکھی گئی ہے اور وہ یہ کہ اگر قطر بحران کا خاتمہ نہ ہوا تو پھر کیمپ ڈیوڈ کی ملاقات بھی نہیں ہوگی۔ یاد رہیکہ ماہ مئی میں جی سی سی (گلف کوآپریشن کونسل) کے چھ ممالک کی باوقار صدارتی تفریح گاہ موقوعہ میری لینڈ کیٹ کاکٹین ماؤنٹنس اجلاس اسی صورت میں منعقد ہوگا جب قطر کے پڑوسی ممالک سعودی عرب، امارات اور بحرین تقریباً گذشتہ ایک سال سے جاری قطر بحران کا کوئی حل نہیں ڈھونڈ نکالتے۔ قطر بحران کے خاتمہ کیلئے ٹرمپ انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے دو اہم قاصد آئندہ ہفتہ صدر ٹرمپ کا یہ پیغام مذکورہ ممالک کو پہنچائیں گے جو ان کی قطر بحران کے خاتمہ کی جانب ایک اچھی کوشش کہی جاسکتی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ اب تک یہ بات بھی واضح نہیں ہوئی ہیکہ آیا مذکورہ بالا خلیجی ممالک اس نوعیت کے کسی اجلاس میں شرکت کریں گے بھی یا نہیں۔ کیونکہ یہ تمام ممالک گذشتہ تقریباً ایک سال سے قطر کے خلاف اناپ شناپ بیانات دینے میں ہی مصروف ہیں اور اچانک ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ سب کچھ فراموش کرتے ہوئے کیمپ ڈیوڈ پہنچ جائیں اور گروپ فوٹوز کھنچوائیں۔ حالانکہ خود ٹرمپ کو بھی اس بات کا پورا پورا یقین نہیں ہیکہ کیمپ ڈیوڈ اجلاس منعقد ہوگا لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ قطر کے پڑوسی ممالک بحران کو غیرضروری طور پر طول دیں۔ دوسری طرف سب سے اہم بات یہ ہیکہ اگر بحران کے جاری رہتے ہوئے کیمپ ڈیوڈ اجلاس کا انعقاد ہوا اور بدقسمتی سے وہ کامیاب نہ ہوسکا تو اس سے ٹرمپ کی نیک نامی بحیثیت میزبان متاثر ہوسکتی ہے۔ لوگ تو یہی کہیں گے کہ ٹرمپ ایک اچھے میزبان یا ثالث نہیں ہیں۔

دوسری طرف ان ممالک کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ انہیں کیمپ ڈیوڈ کے اجلاس میں شرکت کے لئے کیا اقدامات کرنے چاہئے تاہم امریکہ نے ایک بہت ہی اچھی تجویز ضرور پیش کی ہے اور وہ یہ کہ قطر سے آمدورفت کرنے والے طیاروں کو بحال کردیا جائے جس کی وجہ سے قطری طیاروں کو سعودی، امارات اور بحرین میں نہ صرف لینڈنگ کی اجازت نہیں ہے بلکہ وہ ان کے فضائی حدود کو بھی استعمال نہیں کرسکتے۔ اس سلسلہ میں اب تک وائیٹ ہاؤس یا قطر اور امارات کے سفارتخانوں سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے جبکہ ایک سعودی عہدیدار نے یہ بھی کہا ہیکہ سعودی عرب سے امریکہ قطر بحران کا خاتمہ کرنے اس لئے زور دے رہا ہے کہ کیمپ ڈیوڈ اجلاس کی راہ ہموار ہوجائے تاہم یہ بیان بالکل غلط ہے حالانکہ دونوں ممالک (قطر اور سعودی) کے قائدین باہمی تعاون کیلئے پرامید ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ یہی جذبہ جی سی سی اور یو ایس اے کے درمیان بھی قائم رہے۔ سعودی عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر یہ بات بتائی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ گذشتہ سال جون سے قطر کا بائیکاٹ کیا گیا ہے جبکہ اس کے پڑوسی ممالک قطر پر یہ الزام عائد کررہے ہیں کہ وہ دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے اور خلیج کے اتحاد کو منتشر کررہا ہے لہٰذا قطر کو معاشی طور پر یکاوتنہا کردیا گیا ہے بشرطیکہ وہ دیگر ممالک کے مطالبات کی تکمیل کرے لیکن قطر نے بھی معاشی بائیکاٹ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے واضح طور پر یہ کہہ دیا ہیکہ وہ دیگر ممالک کے تعاون کے بغیر بھی اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے۔ قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے ثالثی کی کوشش کی تھی اور اس مقصد کیلئے انہوں نے مندرجہ بالا ممالک کے دورے بھی کئے تاکہ بالواسطہ مذاکرات کو یقینی بنایا جاسکے۔ جب ان کی یہ کوشش ناکام ہوگئی تو امریکہ بھی پیچھے ہٹ گیا اور اس نے ثالثی کی ذمہ داری جی سی سی سے تعلق رکھنے والے ایک اور ملک کویت کو سونپ دی۔ واضح رہیکہ سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان جاریہ ماہ کے وسط میں امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں جبکہ امارات کے ولیعہد محمد بن زید کے پروگرام میں بھی امریکہ کا دورہ شامل ہے۔

TOPPOPULARRECENT