Monday , September 24 2018
Home / دنیا / قطر میں امریکہ ۔ طالبان بات چیت کی اطلاعات مسترد

قطر میں امریکہ ۔ طالبان بات چیت کی اطلاعات مسترد

واشنگٹن 19 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ اور طالبان نے آج ان اطلاعات کی سختی کے ساتھ تردید کی کہ ان کے نمائندے افغانستان پر امن بات چیت میں حصہ لینے قطر میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ دونوں نے کہا ہے کہ اس طرح کی کوئی تجویز نہیں ہے ۔ امریکہ میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان جین پساکی نے کہا کہ ہم طالبان کے ساتھ راست بات چیت کا حصہ نہیں ہے اور نہ

واشنگٹن 19 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ اور طالبان نے آج ان اطلاعات کی سختی کے ساتھ تردید کی کہ ان کے نمائندے افغانستان پر امن بات چیت میں حصہ لینے قطر میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ دونوں نے کہا ہے کہ اس طرح کی کوئی تجویز نہیں ہے ۔ امریکہ میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان جین پساکی نے کہا کہ ہم طالبان کے ساتھ راست بات چیت کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی امریکہ اور طالبان کے مابین 2012 کے بعد سے کسی طرح کی راست بات چیت ہوئی ہے ۔

جنوری 2012 میں امریکہ اور طالبان کے مابین راست بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں ترقی کا عمل آگے بڑھانے اور افغانستان میں مصالحت کے عمل کو فروغ دینے کے عہد کا پابند ہے تاکہ ایک محفوظ اور مستحکم افغانستان کو یقینی بنایا جاسکے ۔ قبل ازیں ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ طالبان کے نمائندے امریکی عہدیداروں سے بہت جلد قطر میں ملاقات کرنے والے ہیں جہاں افغانستان پر امن بات چیت ہوسکتی ہے ۔ وائیٹ ہاوز نے بھی ان اطلاعات کی تردید کی ہے اور قومی سلامتی کونسل کی ترجمان برناڈیٹ میہان نے کہا کہ امریکہ کا طالبان کے ساتھ دوحہ میں کسی طرح کی ملاقات کا پروگرام نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ایجنڈہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کی قیادت میں اور افغانستان کی جانب سے ہونے والی کسی بھی مصالحتی کوشش کے حامی ہیں جہاں طالبان اور افغان حکومت افغانستان میں جاری تنازعہ کو حل کرنے مل بیٹھ کر بات چیت کریں ۔

امریکہ کا طالبان کے ساتھ بات چیت کا کوئی پروگرام نہیں ہے ۔ اس دوران طالبان کی جانب سے بھی سخت تردید جاری کی گئی ہے ۔ طالبان کے ایک ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہیں۔ ہمارا ہمارے قطر کے دفتر میں کسی طرح کی بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ اس تعلق سے آنے والی اطلاعات بے بنیاد اور غلط ہیں۔ حالیہ عرصہ میں افغان قیادت ‘ طالبان اور امریکہ کے مابین بات چیت کے عمل کو بحال کرنے کی کئی کوششیں ہوئی تھیں لیکن ان کو کامیاب نہیں ملی ہے ۔ طالبان کی جانب سے جون 2013 میں قطر میں اپنا دفتر کھولا گیا ہے جسے کسی امن مصالحت کی سمت پہلا قدم قرار دیا گیا تھا تاہم بعد میں اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے شدید اعتراض کے بعد اس دفتر کو بند کردیا گیا تھا ۔ بات چیت کے امکان پر پاکستان کی فوج نے اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT