Thursday , December 13 2018

قطر میں خواتین کے لباس کیلئے ضابطہ نافذ

دوحہ ۔ 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) قطری حکومت کی طرف سے اپنی عرب روایات، ثقافت اور مذہبی شناخت کے تحفظ کیلیے لباس کے حوالے سے شروع کی جانے والی مہم نے اہل قطر اور غیر ملکی تارکین وطن کے لیے ایک نیا موضوع بحث فراہم کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ بحث پھیلتی نظر آتی ہے۔قطر حکومت کی اس مہم کا تقاضا ہے کہ سیاح اور غیر ملکی خواتین اور مرد پبلک م

دوحہ ۔ 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) قطری حکومت کی طرف سے اپنی عرب روایات، ثقافت اور مذہبی شناخت کے تحفظ کیلیے لباس کے حوالے سے شروع کی جانے والی مہم نے اہل قطر اور غیر ملکی تارکین وطن کے لیے ایک نیا موضوع بحث فراہم کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ بحث پھیلتی نظر آتی ہے۔قطر حکومت کی اس مہم کا تقاضا ہے کہ سیاح اور غیر ملکی خواتین اور مرد پبلک مقامات پر جاری کیے گئے اس ضابطہ لباس کا خیال رکھتے ہوئے حد سے زیادہ چست لباس، مختصر لباس، اور ایسے شفاف یا جالی دار لباس سے گریز کریں جس سے ستر متاثر ہوتا ہو اور جسمانی خدوخال ظاہر ہوتے ہوں، اسی طرح منی سکرٹس اور بغیر بازو کے قمیص بھی نہ پہنیں۔

یہ مہم سوشل میڈیا پر بھی جاری ہے، ٹوئٹر پر ایسے لباسوں کی تفصیل بھی دی گئی ہے جو مہم کے مطابق ممنوع یا نامناسب اور غیر ساتر لباس کے ضمن میں آتے ہیں۔ ان ممنوعہ لباسوں کی تصاویر اپ لوڈ کی گئی ہیں تاکہ کوئی شک و شبہ نہ رہے کہ کونسا لباس ناپسندیدہ ہے۔ عورتوں کے علاوہ مردوں کے لیے بھی قطر میں لباس کی تحدیدات واضح کی گئی ہیں کہ وہ بھی تیراکی کا لباس پہن کر ساحل پر نہ گھومیں اور نہ ایسے لباس سومنگ پول سے باہر زیب تن کریں۔ اس مہم میں اہل قطر اور غیر قطریوں سے بیک وقت ایک دوسرے کے لیے نرمی اور احترام کی درخواست کی گئی ہے۔

قطر میں موجود تارکین وطن عربوں کے جذبہ مہمان نوازی سے متاثر ہوں اور یہ مانیں کہ قطر کے لوگ دوستانہ اور شریفانہ طبع کے حامل ہیں۔ لیکن تارکین وطن کی اکثریت نے اس مہم کے بار ے میں بالعموم بے چینی ظاہر کی ہے۔ تاہم ایسے تارکین وطن بھی ہیں جنہیں قطری حکومت کی اس مہم پر کوئی شکوہ نہیں ہے۔ ان تارکین وطن کا تعلق ایشیائی اور عرب دنیا سے ہے۔ ایک امریکی تارک وطن نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے اس مہم کے بارے میں کہا ” اس طرح کے ”ڈریس کوڈ” کا اطلاق مذہبی مقامات، عبادت گاہوں اور سرکاری دفاتر کی حد تک کیا جانا چاہیے، شاپنگ سنٹرز، اور سمندر کنارے پر نہیں۔” اس امریکی شہری کا مزید کہنا تھا یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ مذہبی جگہوں اور دفاتر میں لباس کے لیے ایک ضابطہ ہو لیکن دوسری جگہوں پر ایسی پابندیاں درست نہیں۔” مصر سے تعلق رکھنے والی ندا رمضان کا ” العربیہ ” سے بات کرتے ہوئے اس بارے میں کہنا تھا ” ہمیں یہ سنہری قول نہیں بھولنا چاہیے کہ روم میں اہل روم کی طرح رہو، ہمیں قطر ی رسم رواج اورعقاید کے تقاضوں کا بھی اسی طرح احترام کرنا چاہیے۔” ” العربیہ” نے ایک اور عرب ملک سے تعلق رکھنے والے حمود براہیم سے بات کی تو اندازہ ہوا کہ یہ قطر کے لوگوں اور غیر قطریوں کے درمیان ایک حساس معاملہ ہے، حمود براہیم کا کہنا تھا ” قطر ایک کثیر ثقافتی ملک بن رہا ہے، اسے چاہیے کہ دوسرے ملکوں کی ثقافت کو قبول اور برداشت کرے۔” حمود کا یہ بھی کہنا تھا ” یہ کہنا کہ کوئی کیا پہنے اور کیا نہ پہنے ایک احمقانہ بات ہے، اگراس طرح ڈریس کوڈ مسلط کیا گیا تواس سے معاشرے میں جبر اور عدم برداشت کا فروغ ہو گا۔” اس کے مقابلے میں قطر کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر حکومت کی اس مہم کے حق میں کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ ایک قطری کا کہنا ہے ” یہ تو بہت پہلے کیا جانا چاہیے تھا، یہ وہ کام ہے جس سے ہم اپنے مذہب اور قوم کو بچا سکتے ہیں۔”اسماء الخطیب نامی ایک قطری نے سوشل میڈیا پر کہا ہے ” اس مہم کو میری پوری حمایت حاصل ہے، ہمارے دل میں اس شخص کے لیے احترام ہے جو ہماری ثقافت کا احترام کرتا ہے۔” خیال رہے قطر کے اسلامک کلچر سنٹر نے بھی کچھ عرصہ قبل غیر ملکیوں کو قطر میں ”ڈریس کوڈ ”سے آگاہ کرنے کیلیے ایک مہم چلائی تھی۔

TOPPOPULARRECENT