Friday , April 20 2018
Home / دنیا / قطر کو بحران کی یکسوئی کیلئے امریکہ کا تعاون حاصل

قطر کو بحران کی یکسوئی کیلئے امریکہ کا تعاون حاصل

امریکی خارجہ پالیسی میں مشرق وسطیٰ بحران کی یکسوئی ایجنڈہ میں سرفہرست
خطہ میں غیر ذمہ دارانہ قیادت اور چھوٹے ممالک پر دھونس جمانے کی شکایت
اخباری نمائندوں سے واشنگٹن میں قطر کے نائب وزیر اعظم اور
وزیر خارجہ عزت مآب شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کی بات چیت

واشنگٹن۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ قطر میں جاری بحران کی یکسوئی کے لئے ملک کو سعودی قیادت والے اتحاد کی مکمل تائید حاصل ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق الثانی نے کل ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس معاملہ کی یکسوئی کے لئے ہر ممکنہ کوشش کررہا ہے جس میں کیمپ ڈیوڈ میں بھی بات چیت کی میزبانی کرنا شامل ہے ۔ تاہم صرف قطر ہی ایسا ملک ہے جو بات چیت کے لئے راضی ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتہ وہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن سے ملاقات کریں گے جبکہ جاریہ ہفتہ سنیٹ فارین ریلیشنز کمیٹی کے صدر نشین باب کار کرکے علاوہ اس سلسلہ میں رینکنگ ممبر بین کارڈین اور دیگر کانگریشنل قائدین سے بھی ملاقات ہونے والی ہے۔ اخباری نمائندوں سے کل واشنگٹن میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکہ کی خارجہ پالیسی میں مشرق وسطیٰ کے بحران کی یکسوئی ایجنڈہ میں سرفہرست ہے البتہ خطہ میں غیر ذمہ دارانہ قیادت کی وجہ سے حالات مزید بگڑے ہیں۔ جب ان سے سعودی قیادت والے بلاک کے فوجی کارروائی کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں توقع ہے کہ ایسا نہیں ہوگا تاہم کسی بھی ناگہانی صورت حال کا سامنا کرنے ہم ہمیشہ تیار ہیں اور ہمارے دفاعی شراکت داروں فرانس، ترکی، یوکے اور امریکہ پر بھی ہمیں پورا اعتماد ہے جن کے قطر میں فوجی اڈے موجود ہیں۔ لہذا سعودی بلاک کی پیشقدمی روکنے کے لئے ہم مناسب اقدامات کرسکتے ہیں۔ تاہم مذکورہ بلاک کے رویہ کو دیکھ کر ایک غیر یقینی کیفیت کا احساس ہوتا ہے۔ لہذا ہم نے تمام متبادل تیار رکھے ہیں۔

امریکی افواج کی موجودگی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ اگر قطر کی جانب کوئی جارحانہ کارروائی کی جاتی ہے تو ان افواج پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک تو قطر کے سفارتی بائیکاٹ کی وجہ سے امریکی قیادت والی اتحادی فوج جو عراق اور شام میں دولت اسلامیہ سے نبرد آزما ہے، اس پر پہلے ہی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قطر C-17 ٹرانسپورٹ طیارے ہی اتحادی شراکت داروں کو لاجیسٹکل تعاون فراہم کررہے ہیں جیسے اردن اور ترکی تاہم قطری طیاروں کا سعودی بحرین اور یو اے ای فضائی حدود میں پرواز کرنے پر امتناع عائد کردیا گیا ہے۔ ہمارے پاس پرواز کا ایک ہی فضائی راستہ ہے جو ایران ہو کر گذرتا ہے۔ لہذا ہنگامی حالات میں ہمارے طیارے ایران میں ہی لینڈنگ کریں گے۔ قطر امریکہ کی ثالثی کے ذریعہ بحران کا خاتمہ کرنے تیار ہے۔ تاہم لبنان کے داخلی معاملات میں بھی سعودی عرب کی حد سے زیادہ مداخلت نے حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بحرانی کیفیت پیدا کرنے کے لئے سعودی عرب ذمہ دار ہے تو بیجا نہیں ہوگا اور یہی سب کچھ تم اس خطہ میں نوٹ کررہے ہیں۔ چھوٹے ممالک پر دھونس جمائی جارہی ہے۔ انہیں آنکھیں دکھائی جارہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر میں چھ ماہ قبل جو ہوا تھا وہ اب لبنان میں ہو رہا ہے۔ سعودی اور یو اے ای قیادت کو یہ سوچنا چاہئے کہ دنیا میں ایک ایسا نظام ہے جس کا ہر ایک کو احترام کرنا چاہئے جسے ہم بین الاقوامی قوانین کہتے ہیں۔ اگر ان کا احترام نہ کیا جائے تو پھر حالات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بگڑ جائیں گے۔ کسی بھی ملک کو کسی دیگر ملک کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسی دوران موصوف نے ایم ایس این بی سی کو ایک علیحدہ انٹرویو کے دوران بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں قطر امریکہ کا ایک مضبوط ترین شراکت دار تھا۔ الثانی سے جب یہ پوچھا گیا کہ قطر پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام لگایا جاتا ہے وہ کہاں تک درست ہے جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اسے ایک جھوٹا پروپگنڈہ قرار دیا اور کہا کہ بحران کا آغاز دراصل اسی بے بنیاد الزامات کی وجہ سے ہوا۔ قطر نے ہمیشہ دہشت گردانہ نظریات کی مذمت کی اور امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اس کے شانہ بشانہ موجود رہا۔ امریکہ نے قطر کیساتھ اپنے تعلقات کی ہمیشہ ستائش کی ہے اور فی الحال امریکی فوجی اڈہ کی قطر میں موجودگی کو ختم کرنے کے کوئی آثار نہیں ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT