Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / قطر کے ساتھ مذاکرات معطل ، سعودی عرب کا اعلان

قطر کے ساتھ مذاکرات معطل ، سعودی عرب کا اعلان

مصالحت کیلئے ٹرمپ کی پیشکش کے بعد شیخ تمیم کا محمد بن سلمان کو فون اور کچھ ہی دیر میں تمام امیدوں پر پانی پھر گیا

ریاض ۔ /9 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے قطر کے ساتھ کسی بھی بات چیت کو آج معطل کرتے ہوئے اس (قطر) پر حقائق کو مسخ کرنے کا الزام عائد کیا ۔ قبل ازیں ان دونوں ملکوں کے حکمرانوں نے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی جس کے ساتھ ہی تین ماہ سے جاری خلیجی بحران کے حل کی امیدیں پیدا ہوگئی تھیں ۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خلیجی بحران کی یکسوئی کیلئے اپنی طرف سے مصالحت کی پیشکش کی تھی ۔ جس کے بعد ان دونوں خلیجی ملکوں کے ذرائع ابلاغ نے کہا تھا کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے مذاکرات سے دلچسپی کے اظہار کے لئے سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان سے بات کی تھی جو ٹرمپ کی مصالحتی پیشکش کے بعد ان دونوں قائدین کے مابین پہلا برسرعام رابطہ تھا ۔ سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارہ ایس پی اے نے ابتداء میں خبردی تھی کہ ’’ولیعہد نے اس خواہش کا خیرمقدم کیا ہے ‘ اور کہا تھا کہ اس مسئلہ پر متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر سے اتفاق رائے کے بعد تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا ۔ لیکن دو برادر خلیجی عرب ملکوں میں صلح صفائی اور خلیجی بحران کی یکسوئی کیلئے پیدا شدہ امیدوں پر فوری طور پر پانی پھر گیا ۔ جب سعودی خبررساں ادارہ ایس پی اے نے قطری ذرائع ابلاغ پر یہ الزام عائد کردیا کہ اس نے یہ غلط اطلاع دی ہے کہ سعودی عرب نے بات چیت میں پہل کی ہے ۔ ایس پی اے نے مزید کہا کہ ’’قطری خبررساں ادارہ کی طرف سے جو کچھ شائع کیا گیا ہے وہ دراصل قطری اتھاریٹی کی طرف سے حقائق کو مسخ کرنے کا سلسلہ ہے چنانچہ اب یہ مذاکرات معطل کئے جاتے ہیں ‘‘ ۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو قطر ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں سے الگ الگ بات چیت کی تھی جس کے بعد یہ مصالحتی پیشرفت ہوئی تھی ۔ وائٹ ہاؤز نے کہا کہ ’’صدر (ٹرمپ) نے ایران سے لاحق خطرات سے مقابلے اور علاقائی استحکام کے لئے امریکہ اور اس کے حلیفوں میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیا ہے ‘‘ ۔ خلیجی بحران کی یکسوئی کیلئے جاری مصالحتی کوششوں میں شامل ایک کلیدی شخصیت کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے جمعرات کو واشنگٹن میں ٹرمپ سے ملاقات کرتے ہوئے اب تک کی گئی اپنی مصالحتی مساعی کی تفصیلات کا تجزیہ بیان کیا تھا جس پر سعودی عرب اور اس کے حلیفوں نے کوئی تائید نہیں کی تھی بلکہ الٹا امیر کویت کے اس بیان پر سوال اٹھا دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قطر بھی سعودی عرب کے 13 نکاتی منشور مطالبات کو قبول کرنے تیار ہے ۔

TOPPOPULARRECENT