Tuesday , December 11 2018

قفل شکنی کے مختلف واقعات میں ملوث دو عادی سارق گرفتار

حیدرآباد۔ 24 فروری (سیاست نیوز) مہانکالی پولیس نے دو عادی سارقوں کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضہ سے 1.25 کیلو طلائی زیورات اور دیگر اشیاء برآمد کرلی۔ پولیس نے بتایا کہ 22 سالہ میر کاظم علی خان ساکن شیخ پیٹ ٹولی چوکی اپنے ساتھی 44 سالہ محمد رؤف ساکن حکیم پیٹ ٹولی چوکی کے ہمراہ حیدرآباد و سائبرآباد کے مختلف مقامات میں قفل شکنی کے ذریعہ طلائ

حیدرآباد۔ 24 فروری (سیاست نیوز) مہانکالی پولیس نے دو عادی سارقوں کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضہ سے 1.25 کیلو طلائی زیورات اور دیگر اشیاء برآمد کرلی۔ پولیس نے بتایا کہ 22 سالہ میر کاظم علی خان ساکن شیخ پیٹ ٹولی چوکی اپنے ساتھی 44 سالہ محمد رؤف ساکن حکیم پیٹ ٹولی چوکی کے ہمراہ حیدرآباد و سائبرآباد کے مختلف مقامات میں قفل شکنی کے ذریعہ طلائی زیورات کا سرقہ کیا کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ کاظم علی خان خود کو الیکٹریشن ظاہر کرتے ہوئے مقفل مکانات کو نشانہ بناتے ہوئے طلائی زیورات، موٹر سائیکل اور دیگر اشیاء کا سرقہ کیا کرتا تھا۔ کاظم کی بہن جو ہائیکورٹ کی وکیل ہے اور والد نیم فوجی دستے کے سابق ملازم ہے، مکان پر گرفتاری کے لئے پہونچنے پر پولیس ملازمین کو دھمکایا کرتے اور ان کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست داخل کرتے۔ پولیس کو خوف زدہ کرنے کے لئے اس نے اپنے مکان پر سی سی ٹی وی کیمرہ بھی نصب کیا اور دن رات سرقہ کی وارداتوں میں ملوث رہتا۔ کاظم گزشتہ کئی عرصہ سے سرقے کی وارداتوں میں ملوث ہے اور سابق میں نارائن گوڑہ، شاہ عنایت گنج، ایس آر نگر، پنجہ گٹہ، سلطان بازار، گولکنڈہ، بنجارہ ہلز کے علاوہ کوکٹ پلی، راجندر نگر اور رامچندرپورم پولیس نے اسے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد وہ دوبارہ سرگرم ہوتے ہوئے علاقہ بیگم پیٹ و ہمایوں نگر میں سرقہ کی وارداتیں انجام دی تھیں۔ کاظم علی خاں کا دوست محمد رؤف مسروقہ مال خرید کر اسے دوبارہ فروخت کیا کرتا تھا۔ پولیس نے گرفتار ملزمین کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے جیل بھیج دیا۔

1.25 کیلو طلائی زیورات برآمد ، سارق کے گھر پر سی سی ٹی وی کیمرہ نصب
حیدرآباد۔ 24 فروری (سیاست نیوز) مہانکالی پولیس نے دو عادی سارقوں کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضہ سے 1.25 کیلو طلائی زیورات اور دیگر اشیاء برآمد کرلی۔ پولیس نے بتایا کہ 22 سالہ میر کاظم علی خان ساکن شیخ پیٹ ٹولی چوکی اپنے ساتھی 44 سالہ محمد رؤف ساکن حکیم پیٹ ٹولی چوکی کے ہمراہ حیدرآباد و سائبرآباد کے مختلف مقامات میں قفل شکنی کے ذریعہ طلائی زیورات کا سرقہ کیا کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ کاظم علی خان خود کو الیکٹریشن ظاہر کرتے ہوئے مقفل مکانات کو نشانہ بناتے ہوئے طلائی زیورات، موٹر سائیکل اور دیگر اشیاء کا سرقہ کیا کرتا تھا۔ کاظم کی بہن جو ہائیکورٹ کی وکیل ہے اور والد نیم فوجی دستے کے سابق ملازم ہے، مکان پر گرفتاری کے لئے پہونچنے پر پولیس ملازمین کو دھمکایا کرتے اور ان کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست داخل کرتے۔ پولیس کو خوف زدہ کرنے کے لئے اس نے اپنے مکان پر سی سی ٹی وی کیمرہ بھی نصب کیا اور دن رات سرقہ کی وارداتوں میں ملوث رہتا۔ کاظم گزشتہ کئی عرصہ سے سرقے کی وارداتوں میں ملوث ہے اور سابق میں نارائن گوڑہ، شاہ عنایت گنج، ایس آر نگر، پنجہ گٹہ، سلطان بازار، گولکنڈہ، بنجارہ ہلز کے علاوہ کوکٹ پلی، راجندر نگر اور رامچندرپورم پولیس نے اسے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد وہ دوبارہ سرگرم ہوتے ہوئے علاقہ بیگم پیٹ و ہمایوں نگر میں سرقہ کی وارداتیں انجام دی تھیں۔ کاظم علی خاں کا دوست محمد رؤف مسروقہ مال خرید کر اسے دوبارہ فروخت کیا کرتا تھا۔ پولیس نے گرفتار ملزمین کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے جیل بھیج دیا۔

TOPPOPULARRECENT