Friday , December 15 2017
Home / اضلاع کی خبریں / قلت آب دور کرنے ٹھوس اقدامات کاتیقن

قلت آب دور کرنے ٹھوس اقدامات کاتیقن

عادل آباد /11 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عادل آباد ضلع پرجا پریشد کا اجلاس صدرنشین شریمتی شوبھا رانی کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ اس اہم اجلاس میں پینے کے پانی پر جہاں ایک طرف خصوصی توجہ دی گئی وہیں دوسری طرف بیلم پلی حلقہ اسمبلی کے تانڈور منڈل ZPTC کی جانب سے اقدام خودکشی کی کوشش کا واقعہ زیر بحث لایا گیا ۔ اجلاس میں موجودہ اراکین ضلع پرجا پریشد نے متعلقہ تحصیلدار اور مسٹر ملیش کو اس کی خدمات سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا جس کے بناء پر ضلع کلکٹر مٹسر ایم جگن موہن نے تانڈور منڈل زیڈ پی ٹی سی کی تنازعہ اراضی کے تعلق ہے اندرون ایک ہفتہ جوائنٹ کلکٹر سے تحقیقات کرانے کا تیقن دیا ۔ یہاںاس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ بیلم پلی ریاستی وزیر دورے کے موقع پر تانڈور کی متوطن ایک خاتون ( ورا لکشمی ) نے زیڈ پی ٹی سی کی اراضی کو اپنی اجراضی ثابت کرتے ہوئے اس کو حاصل کرنے کی خاطر کیرے مار ادویات کا استعمال کرتے ہوئے اقدام خودکشی کی تھی ۔ ایک ایکر سے زائد متنازعہ اراضی سروے نمبر 699/1 میں شمار کی جاتی ہے ۔ پینے کے پانی کی قلت پر قابوپانے کی غرض جنگی پیمانے پر اقدامات کرنے کا تیقن ضلع کلکٹر مسٹر ایم جگن موہن نے دیا جبکہ اراکین کی کی خواہش کے پیش نظر ہر ایک ZPTC حلقہ میں 20 عدد بورویل قائم کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چند ایسے مقامات جہاں پانی فراہم کرنے کی سہولت ہونے کے باوجود برقی کی عدمفراہمی پر محکمہ برقی عہدیداروں کے رویہ کے خلاف سخت احتجاج منظم کیا گیا ۔ منڈل جات کی سطح پر مختلف ترقیاتی کاموں کے افتتاحی تقریب کی اطلاع نہ ملنے پر بھی ZPTC اراین نے ضلعی عہدیداروں کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کیا ۔ جبکہ صدرنشین اجلاس نے ایوان کی بھرپور تائید کیا ۔ ضلع کے مختلف مقامات پر بیت الخلاؤں کی تعمیر کے باوجود رقم فراہم نہ ہونے پر سرکاری عہدیداروں سے ناراضگی کا اظہار کیا گیا ۔ ضلع کے 47 منڈل جات میں مہاتما گاندھی طمانیت روزگار اسکیم کی موثر عمل آوری کی ستائش کی گئی جبکہ اس ا سکیم کی عمل آوری کے بناء پر ضلع عادل آباد کو ریاستی سطح پر نمایاں مقام حاصل رہا ۔ ضلع پریشد کے اہم اجلاس میں ضلع عادل آباد سے تعلق رکھنے والے دو وزراء جن میں مسٹر جوگو رامنا مسٹر اے اندرا کرن ریڈی کی عدم موجودگی قابل غور جہاں ایک طرف ہی وہیں دوسری طرف عادل آباد رکن لوک سبھا مسٹر جی ناگیش اپنی صحت خرابی کے بناء پر حاضر ہونے سے قاصر رہے ۔ ضلع پریشد کے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے والے سرکاری عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا انتباہ ضلع کلکٹر مسٹر ایم جگن موہن نے دیا ۔ جنیور کے اردو مدرسہ میں بورویل ڈالنے کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے عنقریب بورویل نصب کرنے کا تیقن ضلع کلکٹر دیا ۔ قبائلی طبقہ کے طلباء اور طالبات کی کثیر تعداد اس اجلاس میں پہونچکر ضلع عادل آباد میں قبائیلی یونیورسٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا جس کے نظر ضلع پرجا پریشد میں ایک قرارداد بھی منظور کرلی گئی ۔ ہاوزنگ اسکیم کے تحت ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کرنے پر بھی زور دیا گیا ۔ آصف آباد حلقہ اسمبلی کے جنور ، سرپور ، نانور منڈل جات میں پینے کے پانی کی شدید قلت پر مقامی رکن اسمبلی شریمتی لکشمی نے توجہ مبذول کروائی اور پانی کی قلت پر قابو پانے کا مطالبہ کیا جس پر RWS عہدیداروں پر ضلع کلکٹر نے اپنی ناراضگی ظاہر کیا ۔ اس اجلاس میں یوتھ رکن اسمبلی مسٹر راتھوڑ بابو راؤ ، مسٹر دیواکر راؤ ، بیلم پلی کے مسٹر چنیا ، سرپور رکن اسمبلی کونیرو کونپا ، نائب صدر ضلع پریشد راجہ ریڈی ضلع پریشد سی ای او مسٹر جتیندر ریڈی چیف پلاننگ آفیسر شیخ میراں کے علاوہ ضلع کے سرکاری و غیر سرکاری عہدیدار بھی موجود تھے ۔ 50 نکات پر مشتمل ایجنڈہ میں چند اہم مواصعات پر غور و خوص کیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT