Tuesday , December 11 2018

قلعہ گولکنڈہ سے تاریخی کتبہ سنگ برآمد

عربی ، فارسی اور تلگو عبارتیں ، ابراہیم قلی قطب شاہ کے دور کے آثار کی دستیابی پر ماہرین مسرور

عربی ، فارسی اور تلگو عبارتیں ، ابراہیم قلی قطب شاہ کے دور کے آثار کی دستیابی پر ماہرین مسرور
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اکٹوبر : ( ابوایمل ) : کہتے ہیں کہ زندہ قومیں اپنے آثار سے پہچانی جاتی ہیں کیوں کہ تاریخی آثار اور تہذیبی ورثے قوموں کے عزم و مزاج اور مستقبل کے تئیں ان کے رویے کی کہانی بیان کرتے ہیں ۔ تاریخی آثار ، تاریخی عمارتیں اور تہذیبی ورثے تعداد میں جس قدر قلیل اور پختگی میں جس قدر مضبوط ہوں گے اسی قدر وہ ان سے وابستہ اقوام کا ماضی و حال اور پھر مستقبل کا منظر نامہ پیش کریں گے ۔ ان تاریخی آثار کا تحفظ دراصل ان افراد کے زندہ ہونے کی علامت ہے جن میں خود کو زندہ رکھنے کی خواہش پائی جاتی ہو ۔ ایسے ہی ایک آثار کا حال ہی میں انکشاف ہوا ہے جس کا تعلق 16 ویں صدی سے ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس آثار کا تعلق قطب شاہی ادوار سے ہے ۔ دراصل قلعہ گولکنڈہ میں جہاں اونٹ باندھے جاتے تھے وہاں پر موجود پتھروں کے ڈھیر سے ستون کی شکل میں دو فٹ طویل کتبہ دستیاب ہوا ہے جس پر تین زبانوں عربی ، فارسی اور تلگو میں چند تحریریں کندہ ہیں ۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا حیدرآباد کے سپرنٹنڈنٹ نے آثار کے دستیاب ہونے پر بے انتہا خوشی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ یہ خوش قسمتی کی بات ہے جو اس قدر قدیم کتبہ دستیاب ہوا ہے ۔ اس آثار کو انہوں نے قلعہ گولکنڈہ کے اندر موجود آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے دفتر کے باہر ایک چبوترہ بناکر رکھا ہے جو یہاں آنے والے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے تاریخی کشش کی حیثیت رکھتا ہے ۔ دو فٹ طویل اس کتبہ میں جو تحریریں کندہ کی گئی ہیں اس کی موٹائی 0.25 میٹر اور چوڑائی 0.26 میٹر بتائی گئی ہے ۔جب کہ اس تحریر کی طوالت 0.68 میٹر رکھی گئی ہے ۔ اس کے اوپری حصے میں چاند اور سورج کا نقشہ بھی بنایا گیا ہے جو کہ تلگو کتبہ کا روایتی طریقہ رہا ہے ۔ مسٹر کرشنیا کے مطابق یہ ایک سرکاری حکم نامہ ہے جو ایک اہم موقع پر عوامی مفاد میں جاری کیا گیا تھا ۔ اس میں ایک جانب تلگو تو دوسری جانب عربی اور فارسی میں عبارت درج ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے ابراہیم قلی قطب شاہ اپنے دور حکمرانی میں کس طرح تلگو زبان کی سرپرستی اور اس کی حفاظت کا اہتمام کیا تھا ۔ بتایاجاتاہے کہ ان کے دور میں تلگو شاعروں کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی ۔ انہوں نے اپنے دور میں مقامی انتظامات سے متعلق حکم نامے تلگو زبان میں بھی جاری کیا کرتے تھے ۔ آرکیالوجسٹ ڈی کنّا بابو نے کہا اس دور کے تلگو شاعروں کی نظموں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح یہ شاعر شہنشاہ کو ’ رعایا پرور ‘ قرار دیتے تھے ۔ دراصل ابراہیم قلی قطب شاہ کا دور 1550-1580 کے درمیان گذرا ہے اور وہ قطب شاہی حکمرانوں میں چوتھے حکمراں تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جمشید قطب شاہ کے انتقال کے بعد تخت گولکنڈہ کے کئی دعویدار ہوگئے ۔ جمشید کے کمسن بیٹے سبحان علی کو تخت پر تو بٹھادیا گیا لیکن دو زبردست حریف اٹھ بیٹھے ۔ دولت قلی نے بھونگیر قلعہ میں اپنی بادشاہی کا اعلان کردیا ۔ تاہم دولت قلی کو کسی نہ کسی طرح مقید کرلیا گیا چونکہ ابراہیم قلی کے سامنے کسی کی ایک نہ چلی اور 1550 میں تخت گولکنڈہ ابراہیم قطب شاہ سے زینت پایا اور انہوں نے 30 سال تک حکمرانی کی ۔ بہرحال مذکورہ کتبہ کی دستیابی نے ایک بار پھر ابراہیم قلی قطب شاہ کے دور حکمرانی کی یاد دلادی ہے ۔ اس بادشاہ کے عہد میں ، مساجد کارواں سرائے ، شفاخانے ، تالاب ابراہیم پٹن تالاب حسین ساگر تعمیر کئے گئے ۔ آپ کا مقبرہ گنبدان قطب شاہی میں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT