Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / قلعہ گولکنڈہ میں پرچم کشائی کے فیصلہ سے دستبرداری کا مطالبہ

قلعہ گولکنڈہ میں پرچم کشائی کے فیصلہ سے دستبرداری کا مطالبہ

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر جاگیردارانہ نظام کے احیاء کا الزام، این نرسمہلو اور ای دیاکر راؤ تلگودیشم قائدین کا بیان

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر جاگیردارانہ نظام کے احیاء کا الزام، این نرسمہلو اور ای دیاکر راؤ تلگودیشم قائدین کا بیان
حیدرآباد /8 اگست (سیاست نیوز) تلگودیشم کے سابق رکن اسمبلی این نرسمہلو نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی شکل میں نظام نے دوبارہ جنم لیا ہے، کیونکہ گولکنڈہ قلعہ پر یوم آزادی کا پرچم لہرانا دور نظام کی یاد تازہ کرنے کے مترادف ہے۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قلعہ گولکنڈہ پر پرچم کشائی کا فیصلہ کرتے ہوئے کے چندر شیکھر راؤ جاگیردارانہ نظام کے احیاء کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ عوام کا خون بہاکر قلعہ گولکنڈہ کی تعمیر ہوئی تھی۔ تلنگانہ عوام کے جذبات کو نظرانداز کرکے کے سی آر من مانی کر رہے ہیں، جس کی تلنگانہ تلگودیشم سخت مذمت کرتی ہے اور اپنے فیصلہ سے دستبرداری کی کے سی آر سے اپیل کرتی ہے۔ انھوں نے سقوط حیدرآباد کی تاریخ 17 ستمبر کو سرکاری تقریب کے طورپر منانے کا مطالبہ کیا۔ انھوں کہا کہ انتخابی منشور کو مقدس کتابوں کے مماثل قرار دینے والے کے چندر شیکھر راؤ اب اپنے وعدوں سے انحراف کر رہے ہیں۔ انھوں نے آندھرا پردیش کے طرز پر کسانوں کے ساتھ ڈاکرا گروپس خواتین کے قرضہ جات معاف کرنے مطالبہ کیا۔ اسی دوران تلگودیشم کے رکن اسمبلی ای دیاکر راؤ نے ٹی آر ایس دور حکومت کو تغلق کے دور سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ عوام کو صرف حسین خواب دکھا رہے ہیں، جس کی تعبیر ناممکن ہے۔ انھوں نے فیس باز ادائیگی اور کونسلنگ کے مسئلہ پر طلبہ اور سرپرستوں کو پریشان کرنے تلنگانہ حکومت پر الزام عائد کیا۔ انھوں نے 19 اگست کو منعقد ہونے والے سروے کو ایک دن کی بجائے ایک ہفتہ تک جاری رکھنے کا مطالبہ کیا اور کے سی آر کی نااہلی کی وجہ سے تلنگانہ میں برقی مسائل پیدا ہونے کا الزام عائد کیا۔

TOPPOPULARRECENT