Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / قلعہ گولکنڈہ کے مکی دروازہ کے دامن میں قدیم مسجد ویرانی کا شکار

قلعہ گولکنڈہ کے مکی دروازہ کے دامن میں قدیم مسجد ویرانی کا شکار

حیدرآباد ۔ 3 مئی ۔ شہر حیدرآباد جو اپنے ابتدائی زمانے میں دین و اسلام کے علاوہ علوم کا گہوارہ کہلایا جاتا تھا آج اسی شہر میں اللہ کے بے شمار گھر یہ کہتے ہوئے کہ ’’مساجد مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے‘‘ ویران و غیرآباد ہوتے چلے جارہے ہیں۔ قلعہ گولکنڈہ جوکہ حیدرآباد کی شاندار تاریخ کا ایک مرکز ہے اور اس کے دامن میں چاروں سمت بے شمار ا

حیدرآباد ۔ 3 مئی ۔ شہر حیدرآباد جو اپنے ابتدائی زمانے میں دین و اسلام کے علاوہ علوم کا گہوارہ کہلایا جاتا تھا آج اسی شہر میں اللہ کے بے شمار گھر یہ کہتے ہوئے کہ ’’مساجد مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے‘‘ ویران و غیرآباد ہوتے چلے جارہے ہیں۔ قلعہ گولکنڈہ جوکہ حیدرآباد کی شاندار تاریخ کا ایک مرکز ہے اور اس کے دامن میں چاروں سمت بے شمار اللہ کے گھر موجود ہیں جو کبھی دکن کا سفر کرنے والے بیرونی افراد اور مقامی نمازیوں سے آباد تھیں لیکن یہاں کے بدلتے سیاسی اور سماجی حالات نے شہر کے قلب میں موجود کئی تاریخی مساجد کو ویران کردیا ہے۔ قلعہ گولکنڈہ کے دامن میں ایک شاندار تاریخی اور تقریباً 500 مصلیوں کی گنجائش والی غیرآباد مسجد ہے جو گذشتہ کئی برسوں سے غیرآباد ہے۔ قلعہ گولکنڈہ کے مکی دروازہ سے کچھ فاصلہ پر ملٹری علاقہ میں لب سڑک یہ مسجد جھاڑیوں اور درختوں میں چھپ چکی ہے۔ آپ کو یاد دلا دیں کہ روزنامہ سیاست نے اپنی کوششوں کے ذریعہ 100 سے زائد غیرآباد مساجد کو منظرعام پر لایا ہے اور الحمدللہ کئی مساجد میں پھر سے اللہ رب العزت کی عبادات کا سلسلہ شروع بھی ہوچکا ہے۔ جب مسجد کا معائنہ کیا گیا تو یہ مسجد چونکہ مکی دروازہ سے تھوڑے سے فاصلہ پر ہے اور مکی دروازہ کی تعمیر کا سال 1559 ہے اور اگر اسی دروازہ کی تعمیر کے ساتھ اس مسجد کی تعمیر کا سال جوڑ لیا جائے تو یہ اللہ کا گھر 455 سال قدیم ہے۔ مسجد کی حصاربندی کے علاوہ اس پر باب الداخلہ بھی ہے جبکہ مسجد 3 کمان والی اور تقریباً 500 مصلیوں کی گنجائش والی ہے۔ مسجد چونکہ مکی دروازہ کے دامن میں ہے لہٰذا آپ کو قلعہ گولکنڈہ کے مکی دروازہ کے تاریخی پس منظر سے بھی واقف کرواتے ہیں۔ اس دروازہ کا رخ چونکہ مکہ معظمہ کی سمت ہے اس لئے اس دروازہ کا نام مکی دروازہ رکھا گیا ہے۔ یہ دروازہ 967ھ مطابق 1559ء میں بہ زمانہ ابراہیم قطب شاہ خان اعظم مصطفی خاں کے زیراہتمام تیار ہوا۔ موجودہ زمانے میں اس دروازہ سے عام آمدورفت ہونے کے علاوہ عثمان ساگر و حمایت ساگر کو بھی اس دروازہ کے راستے سے جاسکتیں ہیں۔ اس تاریخی اور غیرآباد مسجد کو آباد کرنا ہمارا اور آپ کا فرض ہے لیکن اس اللہ کے گھر کو آباد کرنے میں جوش کی نہیں ہوش کی ضرورت ہے چونکہ اب یہ علاقہ ملٹری کے کنٹرول میں ہے۔ قانونی اعتبار سے جو عمارت جس مقصد کے لئے بنائی جاتی ہے اس کے استعمال میں رکاوٹ نہیں ہوتی۔ لہٰذا ضروری ہیکہ قانونی طور پر مسلمانوں کا ایک وفد یہاں موجود فوج کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے اس مسجد کے متعلق مثبت اور مؤثر رہنمائی کرے تو انشاء اللہ اس مسجد کو آباد کرنے میں حائل پہلی اور سب سے بڑی رکاوٹ بہ آسانی ختم کی جاسکتی ہے جس کے بعد اس کی صاف صفائی اور اس میں مسلمانوں کے لئے موجود پنجگانہ نماز کی سہولت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ یہاں موجود فوج کے اعلیٰ عہدیداروں سے اگر اس مسجد کو آباد کرنے میں بہتر تعاون نہ ملے تو پھر مسلمانوں کے پاس عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا آخری راستہ رہ جاتا ہے۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT