Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / قلمدان کی تبدیلی کا اثر ‘ سریدھر بابو کابینہ سے مستعفی

قلمدان کی تبدیلی کا اثر ‘ سریدھر بابو کابینہ سے مستعفی

حیدرآباد 2 جنوری ( پی ٹی آئی ) ریاستی ومیر سیول سپلائز مسٹر ڈی سریدھر بابو نے آج رات کابینہ سے استعفی پیش کردیا ہے ۔ انہوں نے اسمبلی میں تلنگانہ مباحث سے قبل پارلیمانی امور کے قلمدان سے انہیں سبکدوش کردینے کے خلاف بطور احتجاج یہ فیصلہ کیا ہے ۔ تلنگانہ قائدین کے ساتھ مسلسل مشاورت اور اپنے حلقہ اسمبلی کے عوام سے رابطہ کے بعد سریدھر باب

حیدرآباد 2 جنوری ( پی ٹی آئی ) ریاستی ومیر سیول سپلائز مسٹر ڈی سریدھر بابو نے آج رات کابینہ سے استعفی پیش کردیا ہے ۔ انہوں نے اسمبلی میں تلنگانہ مباحث سے قبل پارلیمانی امور کے قلمدان سے انہیں سبکدوش کردینے کے خلاف بطور احتجاج یہ فیصلہ کیا ہے ۔ تلنگانہ قائدین کے ساتھ مسلسل مشاورت اور اپنے حلقہ اسمبلی کے عوام سے رابطہ کے بعد سریدھر بابو نے اپنا مکتوب استعفی چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کو حوالے کردیا ہے ۔ وزیر موصوف کے ایک قریبی ساتھی نے یہ بات بتائی ۔ سریدھر بابو کا کریمنگر ضلع سے تعلق ہے اور انہوں نے کل ہی اپنا مکتوب استعفی تیار کرلیا تھا تاہم ساتھی وزرا نے انہیں جلد بازی میں کوئی اقدام نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا جس پر انہوں نے آج شام تک صبر کیا ۔ مسٹر سریدھر بابو نے آج شام کل ہند کانگریس کے سکریٹری رامچندرا کنٹیا سے ملاقات کی اور یہ مسئلہ رجوع کیا ۔ سمجھا جاتا ہے کہ مسٹر کنٹیا نے سریدھر بابو سے کہا کہ قلمدانوں کی تقسیم یا ان میں تبدیلی چیف منسٹر کا اختیار تمیمی ہے اور اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی ۔ بعد ازاں سریدھر بابو نے اپنے حامیوں اور کریمنگر کے قائدین سے مشاورت کی اور پھر کابینہ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ۔ سریدھر بابو ایک وقت میں چیف منسٹر کے قریبی رفیق سمجھے جاتے تھے

جو متحدہ آندھرا کے کٹر حامی ہیں۔ چیف منسٹر نے 31 ڈسمبر کی نصف شب کو سریدھر بابو کو امور مقننہ کے قلمدان سے سبکدوش کردیا تھا اور ان کی بجائے آندھرا سے تعلق رکھنے والے ٹی جی وینکٹیش کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی ۔ مسٹر سریدھر بابو کو کمرشیل ٹیکس کا قلمدان دیا گیا تھا ۔ سریدھر بابو اور تلنگانہ کے دوسرے وزرا نے چیف منسٹر کے اس اقدام پر شدید تنقید کی ہے اور کہا کہ یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا جبکہ اسمبلی میں تنظیم جدید آندھرا پردیش کے بل پر 3 جنوری سے مباحث شروع ہونے والے ہیں۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے وزرا نے اس مسئلہ کو ریاستی گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن سے بھی رجوع کیا تھا ۔ چیف منسٹر کا اٹل موقف ہے کہ وزرا کے قلمدانوں کی تبدیلی ان کا اختیار تمیزی ہے ۔ چیف منسٹر نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ محکمہ کمرشیل ٹیکس کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے اور وہ محکمہ کو مستحکم کرتے ہوئے ریاست کی آمدنی میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ چیف منسٹر کے اس استدلال کو بھی سریدھر بابو نے قبول نہیں کیا اور انہوں نے نہ صرف نئی ذمہ داری قبول نہیں کی بلکہ موجودہ وزارت سے بھی استعفی پیش کردیا ۔ امور مقننہ کا قلمدان رکھنے والے وزیر ایوان میںکسی بھی مسئلہ پر مختلف جماعتوں کے مابین تعاون اور رابطوں میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔ آندھرا پردیش اسمبلی تقسیم ریاست کے مسئلہ پر شدید اختلافات کا شکار ہے اور ارکان دو صفوں میں بٹ گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT