Tuesday , December 18 2018

قولدار کسانوں سے نا انصافی پر احتجاج کا انتباہ

ملک میں پہلی مرتبہ زرعی مالی امداد فراہم کرنے ٹی آر ایس کا ادعا مضحکہ خیز : کمیونسٹ

حسن آباد ۔ 12 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ریاستی حکومت کی طرف سے کسانوں کو زرعی امداد فراہم کرنے کی غرض سے شعبے زراعت کو نفع بخش بنانے کی خاطر شروع کردہ رعیتو بندھو اسکیم واقعی قابل ستائش ہے تاہم قولدار کسانوں کو اسکیم کے فوائد سے محروم کردینا نا انصافی و حق تلفی کے مترادف ہے ۔ ریاست میں اصلی کسانوں و زمینداروں سے کئی گنا زیادہ قولدار کسانوں کی تعداد ہے جو کہ شبانہ روز سخت محنت کرتے ہوئے اجناس و غلے کو فراہم کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مارکسٹ کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی کمیٹی رکن جی ناگیا نے یہاں مقامی نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے زمینداروں کے ساتھ ساتھ قولدار کسانوں کو بھی رعیتو بندھو اسکیم سے مربوط کرنے کا ریاستی حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ۔ انہوں نے ٹی آر ایس قائدین و ریاستی وزراء کے اس بیان پر کہ کسانوں کو مالی امداد فراہم کرنے و رعیتو بندھو اسکیم کو روشناس کروانے والی ریاست تلنگانہ ، پہلی ریاست ہے جو کہ مضحکہ خیز قرار دے کر انہوں نے ادعا کیا کہ ملک میں سب سے پہلے کسانوں و قولدار کسانوں کو زرعی مالی امداد فراہم کرنے کی اختراعی اسکیم 1990 کے دہے کے اوائل میں کامریڈ جیوتی باسو نے ریاست مغربی بنگال میں آغاز کیا تھا جہاں فی ایکڑ ایک ہزار روپئے تاحال کسانوں و قولداروں کو دئیے جارہے ہیں ۔ کامریڈ جی ناگیا نے ریاستی وزراء و قائدین کو بیان بازی سے قبل حقائق سے مکمل واقفیت حاصل کرلینے کا مشورہ دیا ۔ قولدار کسانوں کو بھی رعیتو بندھو اسکیم سے مربوط نہ کرنے پر مارکسٹ کمیونسٹ پارٹی کے زیر اہتمام ریاست تلنگانہ بھر میں زبردست پرامن احتجاج منظم کرنے کا کامریڈ جی ناگیا سنٹرل کمیٹی ممبر سی پی ایم نے انتباہ دیا ۔ اس موقع پر کامریڈ چکاراملو ، کامریڈ اے ملاریڈی و پارٹی کے دیگر قائدین بھی موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT