Monday , June 25 2018
Home / ہندوستان / قولی اور عملی شہادت کے ذریعہ اسلام کا پیغام پہنچانا ہمارا اصل کام: سعادت اللہ

قولی اور عملی شہادت کے ذریعہ اسلام کا پیغام پہنچانا ہمارا اصل کام: سعادت اللہ

تلوار اور بندوق سے نہیں ملک تعلیم سے ترقی کرتا ہے: امبریش ، مودی جی کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے : جگنیش
نئی دہلی۔26 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) نئی دہلی میں جمعہ سے جاری ایس آئی او انڈیا کی سہ روزہ قومی کانفرنس کے دوسرے دن ایس آئی او کے نیشنل سکریٹری توصیف میڈیکری، قولیل فائونڈیشن کے ڈائرکٹر جناب سہیل کے کے، گجرات اسمبلی کے رکن جگنیش میوانی اور آر ٹی ای فورم کے کنوینر امبریش رائے نے عدلیہ اور تعلیمی موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جبکہ اس سیشن کی صدارت جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ٹی عارف علی نے کی۔ اس دوان توصف مڈیکری نے عدلیہ کے موضوعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا ملک دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے لیے جانا جاتا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس ملک میں ہورہی انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں عالمی سطح پر ملک بہت تیزی سے اپنی غلط پہنچان بنارہا ہے۔ انہوں نے عدلیہ کے انصاف نہ کرنے پر انہیں بھی ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ملک میں 150 مربع کیلومیٹر پر عوام کو انصاف دلانے کے لیے صرف ایک جج ہوتا ہے جس کی وجہ سے انصاف میں تاخیر ہوتی ہے۔ سرکاری اسکولوں کے بند ہونے سے اصل نقصان مسلمانوں، دلتوں اور قبائیلیوں کا ہوتا ہے۔ اس موقع پر آر ٹی ای فورم کنوینر امبریش رائے نے کہا کہ ملک کو تلوار، بندوق اور بارود کے ذریعہ ترقی اور کامیابی حاصل نہیں ہوتی بلکہ ملک کے افراد کو تعلیم سے آراستہ کرکے اور انہیں روزگار فراہم کرکے ملک کو ترقیافتہ بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے تمام ترقیافتہ ممالک اپنے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ تعلیم اور صحت پر خرچ کرتی ہے لیکن موجودہ حکومت تعلیمی بجٹ میں مسلسل تخفیف کررہی ہے۔ بقول ان کے اگر حکومت عوام کو تعلیم اور صحت فراہم نہیں کرسکتی ہے تو حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عوام سے ٹیکس حاصل کرے۔ اس موقع پر ایس آئی او کے سابق صدر تنظیم سہیل کے کے نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس سے ایسی قوت تیار ہوگی جو ملک میں جاری تشدد، فرقہ وارانہ منافرت کا خاتمہ کرے گی۔ عدلیہ پر وصاحت کرتے ہوئے سہیل کے کے نے کہا کہ ہمارے سامنے بی ایم پانڈے اور بابری مسجد پر 2010ء میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی مثالیں موجود ہیں۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ عدلیہ کے کچھ فیصلے اور ثبوتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقیدے کی بنیاد پر کررہی ہے۔ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھانا چاہئے ورنہ عدلیہ اپنی اس روش سے باز نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’کسی بھی ملک کی جمہوریت کی بقا کے لیے تین چیز لازمی ہے پہلا یہ کہ مضبوط دستور اور اس کو قبول کرنے والے عوام دوسرا دستوری اداروں جیسے عدلیہ اور الیکشن کمیشن میں شفافیت کا ہونا اور تیسرے ملک میں موجود تہذیب اور سوشل فیڈرلزم کو قائم کرنا۔ اس اہم کانفرنس میں گجرات اسمبلی کے ممبر جگنیش میوانی کو بھی مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے طلبہ اور نوجوانوں سے خطاب فرمایا اور سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اب ہمیں وزیراعظم مودی پر تبصرہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ اب ان کا وقت ختم ہوگیا ہے اور مودی جی کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ اب ہم یعنی نوجوان ہی طے کریں گے کہ حکومت کس کی ہوگی۔ روزگار، ایجوکیشن اور صحت کے لیے ہم کام کریں گے۔ ااخر میں اس سیشن کی صدارت کررہے ٹی عارف علی نے اختتامی خطاب فرمایا کہ انصاف اور عدل کو بھیک مانگ کر حاصل نہیں کیا جاتا ہے بلکہ جدوجہد کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کا اصل کام ظلم کو ختم کرنا ہے اور عدل و قسط کا قیام کرنا ہے۔

TOPPOPULARRECENT