Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / قومیت پسندی کے نام پر ہٹلر کی روش :اپوزیشن

قومیت پسندی کے نام پر ہٹلر کی روش :اپوزیشن

’’بھارت ماتا کی جئے ‘‘نعرہ کیلئے اصرار پر مختلف جماعتوں کی بی جے پی پر شدید تنقید
نئی دہلی ۔ 21 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) قومیت پسندی پر بحث آج مزید شدت اختیار کرگئی جبکہ اپوزیشن نے بھارت ماتا کی جئے کیلئے بی جے پی کے اصرار پر تنقید کی اور کہا کہ یہ صرف ہٹلر کا طریقہ کار ہے ۔ جواب میں حکمراں جماعت نے کہا کہ اس نعرہ کی مخالفت غداری کے مترادف ہے ۔ اپوزیشن نے بی جے پی پر محض اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کیلئے قومیت پسندی کا مسئلہ اُٹھانے کا الزام عائد کیا ۔ بی جے پی نے کہا کہ بھارت ماتا کی مخالفت کرنے والے یقینا ملک سے غداری کے زمرے میں آتے ہیں ۔ سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا کہ اب یہ کہنا کہ بھارت ماتا کی جئے نعرہ کا مطلب ہی قومیت پسندی ہے اور اس کیلئے اصرار ظاہر کرتا ہے کہ وہ عوام کے تعلق سے ایسا رویہ اختیار کررہے ہیں جس طرح ہٹلر نے جرمنی میں فسطائیت کو بڑھاوا دینے کیلئے قومیت پسندی کا سہارا لیا تھا ۔ راجیہ سبھا اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ یہ شاید آخری جماعت ہے جو قومیت پسندی کی بات کررہی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ یہ بحث صرف توجہ ہٹانے کیلئے شروع کی گئی ہے ۔ بی جے پی نے روزگار ، ترقی اور قیمتوں میں کمی کے علاوہ دیگر کئی جو وعدے کئے تھے اُنھیں پورا کرنے میں ناکام رہی۔ اپنی اس ناکامی کی پردہ پوشی کرنے اُس کے پاس یہی ایک ایجنڈہ رہ گیا ہے کہ عوام کی توجہ ان حقیقی مسائل سے ہٹائی جائے ۔ جنتادل یو لیڈر پون ورما نے کہا کہ پانچ ریاستوں میں مجوزہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ایسے مسائل کو بڑھاوا دیا جارہا ہے ۔ عام آدمی پارٹی لیڈر آشوتوش نے کہا کہ اُس نے کبھی ملک کی جدوجہد آزادی میں حصہ نہیں لیا اور اب وہ اپنے ہاتھوں اور پیشانی پر قومیت پسندی کا لبادہ اوڑھنے کی کوشش کررہی ہے ۔ اپوزیشن کی تنقیدوں کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ قومیت پسندی کے احساسات پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بعض افراد کو بھارت ماتا کی جئے کے نعرہ پر اعتراض ہے اور مخالف قوم پسند جیسے افضل گرو و یعقوب میمن کی تعریف و تحسین اُن کی عادت بن چکی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT