Monday , October 22 2018
Home / ہندوستان / قومی اقلیتی کمیشن کو 1100 سے زائد شکایتیں موصول

قومی اقلیتی کمیشن کو 1100 سے زائد شکایتیں موصول

نئی دہلی۔ 20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) قومی اقلیتی کمیشن کو گزشتہ سال اپریل تا ڈسمبر ہندوستان کے اقلیتی طبقات کی جانب سے مجموعی طور پر 1,189 شکایات موصول ہوئی تھیں جس میں سے 1050 شکایتوں کو خارج کردیا گیا۔اس بات کی اطلاع اقلیتی کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔ نیشنل کمیشن فار مائناریٹیز (این سی ایم) کی ویب سائیٹ پر جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی جانب سے مجموعی طور 907 شکایات موصول ہوئیں جبکہ ہندوستان کی سب سے چھوٹی اقلیت پارسیوں کی جانب سے سب سے کم 3 شکایتیں درج کروائی گئیں۔ اسی طرح دیگر اقلیتی طبقات عیسائی، سکھ، جین اور بدھسٹوں کی جانب سے بالترتیب 74، 65، 37 اور 13 شکایتیں درج کروائی گئیں۔ اس کے علاوہ بھی مجموعی طور پر 90 شکایتیں قومی اقلیتی کمیشن کو موصول ہوئیں۔ تفصیلات کے مطابق ان شکایات میں سے مجموعی طور پر 707 شکایتوں کا تعلق لا اینڈ آرڈر کے متعلق تھیں جبکہ مذکورہ کمیشن میں خدمات، تعلیم، وقف اور مذہبی حقوق سے متعلق بالترتیب 101، 65، 42 اور 40 شکایتیں درج کروائی گئیں 225 شکایتیں ایسی ہیں جو مختلف اُمور سے تعلق رکھتی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے صدرنشین قومی اقلیتی کمیشن سید غیورالحسن رضوی نے کہا کہ کمیشن، اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہا ہے کہ مذکورہ شکایتوں کی جلد سے جلد اور تیز رفتار یکسوئی کی جائے۔ رضوی نے مزید کہا کہ شکایتوں کی یکسوئی اور اس کا موقف جاننے کیلئے کمیشن نے ای۔ آفس متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مختلف طبقات کی جانب سے داخل کئے گئے شکایتوں کا حوالہ دیتے ہوئے این سی ایم چیرمین نے کہا کہ وہ اپنے حدود سے باہر نکل کر ان شکایتوں پر بھی غور کرنے اور اسے متعلقہ محکمہ جات کے حوالے کرنے پر بھی کام کررہا ہے تاکہ مستحق افراد کو ان کی شکایتوں کا جلد سے جلد ازالہ ہوسکے۔ گزشتہ سال کمیشن کے پاس 1647 شکایتیں موصول ہوئی تھیں جس میں سے 1599 شکایتوں کو خارج کردیا گیا ہے۔ اسی طرح سال 2014-15ء اور 2015-16ء کمیشن کے پاس بالترتیب 1995 اور 1974 شکایتیں درج کرائی گئی تھی۔ واضح رہے کہ قومی اقلیتی کمیشن کو اقلیتی کمیشن ایکٹ 1992 کے تحت تشکیل دیا گیا تھا تاکہ ملک کے مختلف اقلیتی طبقات کو ریاستی اور مرکزی سطح پر قانون سازی کے ذریعہ فراہم کئے گئے قانونی تحفظات کے ذریعہ انہیں ان کے حقوق دیئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT