Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / قومی تعلیمی پالیسی میں دینی مدارس کو اہم رول دینے کا منصوبہ

قومی تعلیمی پالیسی میں دینی مدارس کو اہم رول دینے کا منصوبہ

مدارس کی ڈگری کو مسلمہ حیثیت دینے ظفر سریش والا کی تجویز، بنگلور میں مرکزی وزراء کی موجودگی میں مشاورتی اجلاس
حیدرآباد۔22 ۔ جنوری (سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے قومی ، تعلیمی پالیسی میں اقلیتی اداروں کے مسائل اور ان کے حل کو شامل کرنے کیلئے ملک کے نامور اقلیتی اداروں کے ذمہ داروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ مرکزی حکومت نے قومی تعلیمی پالیسی کا مسودہ تیار کرنے کیلئے ممتاز سائنسداں اور اسرو کے سابق صدرنشین ڈاکٹر کے کستوری رنگن کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ مرکز کو پیش کی۔ تاہم وزارت فروغ انسانی وسائل نے اقلیتی اداروں اور خاص طور پر دینی مدارس سے متعلق تجاویز پیش کرنے کا مشورہ دیا۔ حکومت دینی مدارس کو عصری تعلیم سے جوڑنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ دینی مدارس کے فارغ طلبہ عصری کورسس کی تعلیم حاصل کرسکیں۔ دینی مدارس کے بارے میں بعض گوشوں میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے اجلاس میں شریک مدعوئین نے تجاویز پیش کی۔ مرکزی وزراء پرکاش جاوڈیکر اور سمرتی ایرانی کے علاوہ وزارت فروغ انسانی وسائل کے اعلیٰ عہدیداروں نے بنگلور میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کی۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی نمائندگی ظفر سریش والا نے کی۔ دارالعلوم دیوبند کے مولانا مفتی محمد اسمعیل کے علاوہ ٹاٹا ٹرسٹ ممبئی انجمن اسلام ممبئی، آغا خاں فاؤنڈیشن اور دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ٹاٹا ٹرسٹ ممبئی کے نمائندہ نے اجلاس میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا کہ ٹرسٹ کی جانب سے مختلف دینی مدارس میں عصری تعلیم کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ٹرسٹ کے نمائندہ نے واضح کیا کہ دینی مدارس کے طلبہ اپنی ذہانت کے سبب بآسانی عصری تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے دینی مدارس کے بارے میں جاری پروپگنڈہ کو نامناسب قرار دیا ۔ ظفر سریش والا نے دینی مدارس کو عصری تعلیم سے جوڑنے کی کوششوں کی تائید کی اور کہا کہ دارالعلوم دیوبند ، ندوۃ العلماء اور دیگر بڑے اداروں کی ڈگریوں کو مختلف یونیورسٹیز میں مسلمہ حیثیت دی گئی ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ملک کی نامور دینی اور اسلامی یونیورسٹیز کی ڈگریوں کو عصری تعلیم کی یونیورسٹیز میں فرسٹ ایئر ڈگری کے مماثل قرار دیا جائے تاکہ دینی مدارس کے فارغین گریجویشن کی تعلیم حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ عصری تعلیم حاصل نہیں کرسکتے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن ، حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم کسی اور مضمون کو بآسانی سیکھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ مدارس کے خلاف پروپگنڈہ کی مخالفت کرے تاکہ دینی مدارس کے فارغین عصری تعلیم کی طرف متوجہ ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ مدارس کے کئی فارغین نے سیول سرویسس اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ جیسے اہم کورسس میں نمایاں مظاہرہ کیا ہے۔ مرکزی وزراء پرکاش جاوڈیکر اور سمرتی ایرانی نے اجلاس کو بتایا کہ قومی تعلیمی پالیسی کی تشکیل میں دینی مدارس کا بھی بطور خاص خیال رکھا جائے گا۔ مدارس کو عصری تعلیم سے جوڑتے ہوئے مسلم نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کی تدوین کا مقصد تمام مذاہب کے ماننے والوں کو تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ اقلیتی اور دینی مدارس سے متعلق مشاورتی اجلاس میں رحمانی فاؤنڈیشن بہار کے مولانا ولی رحمانی کو بھی مدعو کیا گیا تھا لیکن انہوں نے شرکت نہیں کی۔

TOPPOPULARRECENT