Friday , November 17 2017
Home / Top Stories / قومی دارالحکومت میں عملاً جنگل راج قائم

قومی دارالحکومت میں عملاً جنگل راج قائم

لیفٹنٹ گورنر کی مجرمانہ غفلت پر چیف منسٹرارویند کجریوال کی تنقید
نئی دہلی ۔ 7 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام) : چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے لیفٹنٹ گورنر نجیب جنگ پر تنقید کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ وہ دہلی میں امن و قانون کی صورتال پر توجہ نہیں دے رہے ہیں اور ان کی حکومت کی کارکردگی میں رخنہ پیدا کررہے ہیں ۔ چیف منسٹر دہلی کا یہ ردعمل ایسے وقت آیا ہے جب لیفٹنٹ گورنر نے دو مکتوبات روانہ کرتے ہوئے عام پارٹی آدمی حکومت کی جانب سے بعض عہدیداروں اور مشیروں کے تقررات کے بارے میں تفصیلات طلب کی تھیں ۔ یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ دہلی میں عصمت ریزی کے واقعات اور دیگر جرائم میں اضافہ ہورہا ہے ۔ کجریوال نے کہا کہ امن و قانون کی برقراری لیفٹنٹ گورنر کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شہر میں کوئی قانون اور پولیس نہیں ہے اور جنگل راج چل رہا ہے ۔ چیف منسٹر نے بھی ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر سے دریافت کیا کہ دہلی میں عصمت ریزی واقعات کی روک تھام اور امن و قانون کی بہتری کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ اور یہ کہا کہ امن و قانون کے مسئلہ پر وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے کب ملاقات کریں گے یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ دہلی میں امن و قانون کی برقراری کے لیے مرکزی حکومت بھی ذمہ دار ہے ۔ کجریوال نے سوال کیا کہ آیا کبھی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے دارالخلافہ میں ابتر امن و قانون کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ میرے مکتوب کا بہت جلد جواب دیا جائے گا تاکہ عوام کو امن و قانون کی حقیقی صورتحال کی جانکاری دی جاسکے ۔ کجریوال نے کل بھی یہ الزام عائد کیا تھا کہ امن و قانون کی ابتر صورتحال پر قابو پانے میں مودی اور جنگ ناکام ہوگئے ہیں اور کہا تھا کہ شہر میں جنگل راج قائم ہوگیا ہے ۔

مسٹر کجریوال کے خط میں دارالحکومت کے قانون و انتظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عصمت دری اور مجرمانہ واقعات دن بہ دن تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ چاروں طرف جنگل راج ہے ۔ دارالحکومت کے عوام میں اس کی وجہ سے افراتفری مچی ہوئی ہے ۔مسٹر کیجریوال نے لکھا ہے کہ “میں نے کئی قانونی ماہرین سے مشورہ کیا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق آپ کو یہ اطلاع اہلکاروں سے مانگنے کا حق نہیں ہے ۔ مرکزی حکومت کسی بھی ریاستی حکومت کو خط لکھ کر کوئی اطلاع مانگ سکتی ہے ۔ ویسے ہی جیسے کوئی بھی ریاستی حکومت مرکزی حکومت کو خط لکھ کر معلومات طلب کرسکتی ہے ” ۔خط میں یہ پوچھا گیا ہے کہ دہلی حکومت میں ایسی کون سی انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کی پوسٹ ہے جس پر دیگر افسران کام کر رہے ہیں۔ میری سمجھ سے پوری دہلی حکومت میں دو چار سے زیادہ ایسے افسر نہیں ہوں گے ۔ مجھے پوری امید ہے کہ مرکز نے اس طرح کی معلومات شیوراج چوہان، چندرا بابو نائیڈو، وسندھرا راجے اور دیویندر فڑنویس سے بھی طلب کی ہوں گی۔ وہاں کیا صورت حال ہے ۔ جب آپ اتر پردیش کے وزیر اعلی تھے تو آپ کے وقت ایسے کتنے افسر ہوتے تھے ؟۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ان میں سے ہر ریاست میں کئی سو ایسے افسر ہوتے ہیں۔ اگر آپ ریاستوں کی ترتیب سے یہ تعداد مجھے بھیجیں گے تو آپ کا نہایت کرم ہوگا”۔مسٹر کیجریوال نے وزیر داخلہ کو اپنے مکتوب میں یہ بھی لکھا ہے کہ دہلی حکومت میں کتنے مشیر مقرر کئے گئے ہیں۔ میں ان کی فہرست بنواتا ھوں، مگر دہلی حکومت بھی جاننا چاہتی ہے کہ مرکزی حکومت نے اپنے دو سال کی مدت میں کتنے مشیر مقرر کئے ہیں، اس کی فہرست بھیجنے کی مہربانی کریں۔ مشیروں کی فہرست کے تبادلے سے دونوں حکومتوں کو فائدہ ہوگا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT