Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / قومی سطح پر فرقہ پرست جماعتوں کیلئے کوئی جگہ نہیں

قومی سطح پر فرقہ پرست جماعتوں کیلئے کوئی جگہ نہیں

مجلس پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا الزام ، جناب آر روشن بیگ وزیر کرناٹک کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 10 جنوری (سیاست نیوز)  قومی سطح پر فرقہ پرست جماعتوں کے لئے کوئی مقام باقی نہیں رہا۔ ملک کے عوام ترقی کے ایجنڈہ کو قبول کرتے ہوئے فرقہ پرست نظریات کو مسترد کرنے لگے ہیں جس کی مثال سال گزشتہ بنگلور میں منعقدہ بلدی انتخابات کے علاوہ بہار اسمبلی انتخابات ہیں۔ جناب آر روشن بیگ ریاستی وزیر حکومت کرناٹک نے آج حیدرآباد میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے مجلس اتحادالمسلمین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مجلس قومی سطح پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش میں ہے، لیکن ان کوششوں کو عوام کی جانب سے مسترد کردیئے جانے کے بعد مجلسی قیادت کو بھی چاہئے کہ وہ خود کو شہر حیدرآباد تک محدود رکھے اور قومی قیادت بننے کا خواب دیکھنا بند کرے۔ روشن بیگ نے بتایا کہ بنگلور کے عوام نے بلدی انتخابات میں مجلس کو سبق سکھایا اور بہار میں باشعور رائے دہندوں نے مجلس اور بی جے پی کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ قومی سطح پر کسی بھی طرح کی منافرت قابل قبول نہیں رہی۔ انہوں نے شہر حیدرآباد کے رائے دہندوں اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بلدی انتخابات میں کانگریس کو مزید مضبوط کریں چونکہ کانگریس پارٹی ملک میں سیکولر اقدار کو مستحکم بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے مجلس کو فرقہ وارانہ منافرت اور مذہبی بنیادوں پر عوام کو تقسیم کرنے والی جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں بھی سیکولر جماعتوں کا مقابلہ فرقہ پرست جماعتوں سے رہے گا۔ ریاستی وزیر کرناٹک نے بتایا کہ بلدی انتخابات دراصل ترقیاتی کاموں کی بنیادوں پر منعقد ہونے چاہئے اور یہ دیکھا جانا چاہئے کہ شہر میں کتنی ترقی کس جماعت کے کارپوریٹر نے علاقہ کو دلوائی ہے۔ اس موقع پر آر روشن بیگ کے ہمراہ رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ کے علاوہ دیگر قائدین موجود تھے۔ روشن بیگ نے بتایا کہ ریاست میں کانگریس اور مجلس کی مفاہمت کے باعث مجلس کو استحکام حاصل ہوا لیکن مجلس نے نہ صرف کانگریس کو دھوکہ دیا بلکہ ریاست کے عوام بالخصوص مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہوئے انہیں پسماندگی کا شکار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے شہر حیدرآباد سے پسماندگی کے خاتمہ کیلئے کانگریس کی کامیابی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک سیکولر سوچ کے حامل افراد کامیاب نہیں ہوتے، اس وقت تک شہر کی مجموعی ترقی ناممکن ہے، اسی لئے ہر طرح کی فرقہ پرستی کو ختم کرتے ہوئے سیکولر جماعتوں کے قائدین کو کامیاب بنایا جانا چاہئے۔ وی ہنمنت راؤ نے اس موقع پر بتایا کہ کانگریس نے تقریباً تین دہوں کے بعد مجلس سے قطع تعلق کا فیصلہ کیا ہے جس کی بنیادی وجہ شہر حیدرآباد کی پسماندگی اور شہریان حیدرآباد کی غربت ہے۔ ہنمنت راؤ نے بتایا کہ حیدرآباد سے منتخب ہونے والے مجلسی نمائندوں نے عوام کی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جس کی وجہ سے آج نہ صرف شہر حیدرآباد کے عوام مشکلات کا شکار ہیں بلکہ شہر حیدرآباد کے ایک حصہ جسے ’’پرانا شہر‘‘ کہا جاتا ہے، مکمل طور پر نظرانداز کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے پرانے شہر کی ترقی نہیں ہوپائی۔ رکن راجیہ سبھا کانگریس نے بتایا کہ اب جبکہ کانگریس پارٹی نے مجلس کے خلاف مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ایسی صورت میں کانگریس کو اپنی بنیادیں مضبوط کرنی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ پرانے شہر کے عوام کانگریس کو ایک مرتبہ پھر موقع فراہم کرتے ہوئے پرانے شہر کی ترقی کی راہیں ہموار کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT