Wednesday , July 18 2018
Home / ہندوستان / قومی سلامتی میں خانگی ملیشیاء کے رول پر وزیراعظم سے وضاحت طلبی

قومی سلامتی میں خانگی ملیشیاء کے رول پر وزیراعظم سے وضاحت طلبی

فوج کی توہین پرقوم سے معذرت خواہی کرنے کیلئے موہن بھاگوت سے کانگریس کا مطالبہ

نئی دہلی ۔12 فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے مسلح افواج کے بارے میں اُن کے ریمارکس پر معذرت خواہی کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور وزیراعظم سے اس بات پر وضاحت طلب کی کہ آیا وہ ( نریندر مودی ) ملک کی سرحدوں کی نگرانی و نگہبانی کیلئے ’’خانگی ملیشیا‘‘ ( چھاپہ ماروں) کو قبول کرتے ہیں۔ کانگریس کے ایک سینئر ترجمان آنند شرما نے بھاگوت کے بیان کو افسوسناک ، پریشان کن اور تکلیف دہ قرار دیا اور کہاکہ جن ملکوں نے خانگی جنگجوؤں اور فوجی چھاپہ ماروں کو ملک کیلئے لڑنے کی اجازت دی تھی، انھیں انتہائی صدمہ انگیز صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے اس غلطی کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے ۔ آنند شرما نے اس ضمن میں افغانستان ، عراق، شام ، صومالیہ اور کانگو کی مثال دی اور کہا کہ ہندوستان اس قسم کی غلطی کی اجازت دینے کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ کانگریس کے ترجمان نے کہاکہ ’’ آر ایس ایس کے سربراہ کا بیان ہندوستانی مسلح افواج کی براہ راست توہین ہے کیونکہ انھوں (بھاگوت ) نے دعویٰ کیا تھا کہ کسی جنگ لڑنے کی ناگہانی صورت میں آر ایس ایس محض تین دن میں خود کو چوکس و متحرک کرسکتی ہے جبکہ ہندوستانی فوج کو اس کام کیلئے 6 تا 7 ماہ درکار ہوتے ہیں۔ آنند شرما نے کہاکہ ’’آر ایس ایس سربراہ کو چاہئے کہ وہ اپنے ریمارکس پر ملک اور مسلح افواج سے معافی مانگیں کیونکہ انھوں نے ہندوستانی فوج کی بہادری اور صلاحیت پر سوال اُٹھایا ۔ اس قسم کے بیانات اور خیالات ہمارے مسلح افواج کے حوصلے پست کرسکتے ہیں‘‘ ۔ انھوںنے مزید کہاکہ ’’ہندوستان کے وزیراعظم کو بھی اس مسئلہ پر اپنا موقف واضح کرنا ہوگا کہ آیا وہ قومی سلامتی کا کام ہندوستانی فوج سے ہٹ کر آر ایس ایس کے حوالے کرنا چاہتے ہیں؟ ‘‘۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس اور اس کے کارکن ملک بھر میں اس کی مخالفت کریں گے۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ ’’ہم توقع کرتے ہیں کہ اس غلطی کی اصلاح کرلی جائے گی کیونکہ یہ قومی مفاد میں نہیں ہے اس مسئلہ کو انتہائی سنگین تصور کرتے ہیں کیونکہ اس سے سارا ملک بری طرح متاثر ہورہا ہے‘‘ ۔ انھوں نے مزید کہاکہ ’’اس سے زیادہ ‘‘ اور کوئی بات توہین آمیز نہیں ہوسکتی ۔ بات جب قومی دفاعی کی آئی ہے تو ہم بحیثیت ایک جمہوریت کسی خانگی تنظیم یا ادارہ کو کوئی جگہ (ذمہ داری ) نہیں دے سکتے‘‘۔ کانگریس کے ترجمان نے کہاکہ ’’یہ امر افسوسناک اور تکلیف دہ ہے کہ ایک ایسے وقت جب ہندوستانی فوج سنگین دہشت گرد حملوں کا سامنا کررہی ہے اس دوران آر ایس ایس کے سربراہ اس قسم کا بیان دیتے ہیں جس سے دستوری چوکٹھے کی بدترین توہین ہوتی ہے ۔ اس سے قومی ترنگے کی توہین ہوتی ہے ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT