Wednesday , December 13 2017
Home / اداریہ / قومی سیاست ‘ کانگریس اور راہول

قومی سیاست ‘ کانگریس اور راہول

وہ آئیں ‘ نیند آئے کہ خواب اجل ہی آئے
کس کس کے انتظار میں جینا پڑا مجھے
قومی سیاست ‘ کانگریس اور راہول
ملک کی اصل اپوزیشن جماعت کانگریس میں راہول گاندھی کو پارٹی صدر بنانے کا عمل تیز ہوگیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ جاریہ مہینے کے اختتام تک ہی راہول گاندھی کو کانگریس کا کل ہند صدر بنادیا جائیگا ۔ ویسے تو گذشتہ پارلیمانی انتخابات سے قبل بھی اس طرح کی باتیں ہوئی تھیں لیکن انتخابات کے بعد کچھ وقت کی خاموشی چھائی رہی لیکن پھر یہ آوازیں پوری شدت کے ساتھ بلند ہونے لگی تھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کانگریس کو بھی اب احساس ہوگیا ہے کہ راہول گاندھی کو پوری طرح سے ذمہ داری عائد کئے بغیر ملک کے عوام میں پیش کرنے کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکتے ۔ فی الحال ہندوستان میں قومی سیاست جن حالات کا شکار ہے ان میں کانگریس پارٹی کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ حالات بدلنے کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے اور اس کیلئے شائد سونیا گاندھی اب ذمہ داری نبھانے کے موقف میں نہیں ہیں۔ سونیا گاندھی کو صحت کے مسائل درپیش ہیں اور وہ امریکہ میں علاج بھی کرواچکی ہیں حالانکہ ابھی تک بھی یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ انہیں کیا عارضہ لاحق تھا ۔ گذشتہ سال اترپردیش میں کانگریس کی ایک ریلی اور روڈ شو کے دوران سونیا گاندھی کی طبیعت بگڑ گئی تھی اور اس کے بعد سے وہ بتدریج عوامی سرگرمیوں سے دور ہوگئیں۔ اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے دوران بھی سونیا گاندھی انتخابی مہم کا حصہ نہیں رہیں اور حالیہ عرصے میں وہ عوامی حلقوں میں نسبتا کم دیکھی جا رہی ہیں۔ ان کی سیاسی سرگرمیاں واقعی ٹھپ ہوگئی ہیں۔ ایسے میں یہ کہا جارہا تھا کہ راہول گاندھی پارٹی کی مکمل ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور بالواسطہ طور پر صدر پارٹی کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ اس صورتحال میں پارٹی نے یہی محسوس کیا کہ راہول گاندھی کو باضابطہ صدر بنایا جانا چاہئے اور یہ عمل اب تیز ہوگیا ہے ۔ ویسے بھی راہول گاندھی کے تعلق سے جو تاثر پیدا ہوا تھا وہ حالیہ عرصہ میں تبدیل ہونے لگا ہے ۔ اب خود حکومت اور بی جے پی بھی ان کے ریمارکس اور تبصروں کو اہمیت دینے لگی ہے ۔ راہول گاندھی کی تنقیدوں اور تبصروں پر حکومت کے وزرا رد عمل ظاہر کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے لگے ہیں۔ بی جے پی قائدین کی جانب سے ان تنقیدوں کا جواب بھی جارحانہ تیور کے ساتھ دیا جا رہا ہے ۔
گذشتہ عام انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی اور مودی حکومت کے قیام کے بعد سے قومی سیاست ایک الگ نہج پر چلی گئی ہے ۔ پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کہ حکومت کس سمت میں جا رہی ہے ۔ اس کے پروگرامس اور ترجیحات کیا ہیں اور وہ عملی طور پر کیا کر رہی ہے ۔ صرف ایک بات واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے اور وہ فاشسٹ طاقتوں کا فروغ اور عروج ہے ۔ حکومت معاشی میدان میں اپنی کارکردگی ثابت کرنے میں ناکام ہے ۔ روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں مودی حکومت پوری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔ صنعتی ترقی انحطاط کا شکار ہوکر رہ گئی ہے ۔ بے چینی اور نراج کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے ۔ مختلف فرقوں میں کسی نہ کسی بہانے سے ایک دوسرے کے خلاف نفرتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ عوام کے مسائل پر حکومت کان دھرنے کو بھی تیار نہیں ہے ۔ من مانی انداز میں فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ اس کے اثرات کا جائزہ لینا تک حکومت کو گوارہ نہیں ہے ۔ صرف فرضی دعووں اور جھوٹے پروپگنڈوں کے ذریعہ انتخابی کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں اور اسی کو عوام میں مقبولیت کا معیار سمجھا جارہا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کا صفایا کرنے کی مہم بھی شدت اختیار کرچکی ہے ۔ منی پور اور گوا میں اپوزیشن کو پیچھے ڈھکیل پر اقتدار ہتھیا لیا گیا ۔ جمہوری اصولوں اور سیاسی اقدار کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے ۔ صرف اپنے مفادات اور مقاصد کی تکمیل کیلئے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ کیا جا رہا ہے اور یہ ساری صورتحال عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث ہے ۔
ایک ایسے وقت میں جبکہ حکومت کی کارکردگی پر دبے دبے الفاظ ہی میں سوال اٹھنے لگے ہیں اور حکومت سے جواب طلب کرنے پر توجہ ہو رہی ہے ‘ کانگریس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملک و قوم کو درپیش مسائل اور ملک میں پیدا ہونے والی بے چینی والی سیاسی کیفیت پر اپنی ذمہ داری نبھائے ۔ وہ عوام کی ترجمان بنتے ہوئے حکومت سے سوال کرے اور جواب مانگے ۔ خود اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد پیدا کیا جائے اور ایک جامع منصوبہ تیار کرتے ہوئے حکومت کے جھوٹے دعووں اور غلط تشہیر کا پردہ فاش کیا جائے ۔ راہول گاندھی اگر پارٹی کے صدر بن جاتے ہیں تو ان کی ذمہ داریوں میں دوگنا اضافہ ہوگا ۔ پارٹی کو مستحکم کرنے کے علاوہ عوام کے مسائل پر حکومت سے جواب طلب کرنے کی ذمہ داری بھی ان پر عائد ہوگی اور اس کیلئے انہیں کمر کس لینے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT