Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / قیادت کی نیندیں حرام ‘ شہر کے کئی ارکان اسمبلی حکمراں جماعت کے رابطہ میں!-ں

قیادت کی نیندیں حرام ‘ شہر کے کئی ارکان اسمبلی حکمراں جماعت کے رابطہ میں!-ں

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمودعلی کے عوامی رابطے کے سبب پرانے شہر میں ٹی آر ایس کو زبردست مقبولیت ‘ سیاسی حالات تبدیل ہونے کا امکان
حیدرآباد۔6جون ( سیاست نیوز ) ٹی آر یس نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کیلئے اپنے دروازے کھول دیئے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین بالخصوص ارکان اسمبلی و پارلیمان کو پارٹی میں شمولیت کا موقع فراہم کرنے کے بعد اب تمام ہر سطح کے قائدین کو پارٹی میں شامل کیا جانے لگا ہے۔تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے تشکیل تلنگانہ کے بعد جب اقتدار حاصل کیا اور جناب محمد محمود علی کو ڈپٹی چیف منسٹر بنانے کا اعلان کیا تو مسلم طبقہ کی جانب سے اس کا کھل کر خیر مقدم کیا گیا لیکن اس کے اثرات کا اندازہ اس وقت ہوا جب ٹی آر ایس کو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات کے دوران زبردست عوامی تائید حاصل ہوئی۔ شہر حیدرآباد میں ٹی آر ایس کو حاصل ہوئی غیر معمولی کامیابی کے بعد مقامی جماعت کے قائدین کا رجحان بھی ٹی آر ایس کی جانب بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ برسر اقتدار جماعت ہونے کے علاوہ سیاسی مستقبل کو تابناک بنانے کے خواہشمند قائدین آئندہ انتخابات اور نامزد عہدوں کو نظر میں رکھتے ہوئے تلنگانہ راشٹرا سمیتی میں شمولیت اختیار کرنے لگے ہیں۔ شہر میں موجود مقامی جماعت کے قائدین یہ جان چکے ہیں کہ جماعت کی قیادت کسی مسئلہ پر حکومت سے الجھنے کے موقف میں نہیں ہے اسی لئے بلا چوں و چرا ہر بات کو قبول کیا جانے لگا ہے۔ جماعت کے کارکنوں میں تیزی سے پھیل رہے اس احساس کو دور کرنے کیلئے کوئی حکمت عملی نہیں ہے جس کی بنیادی وجہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں ٹی آر ایس کو حاصل ہونے والی زبردست عوامی تائید ہے۔ حیدرآباد کے علاقہ پرانے شہر میں جہاں بلدی انتخابات کے دوران کانگریس نے کافی کوشش کی تھی لیکن اس کے باوجود کانگریس کو خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے جبکہ ٹی آر ایس نے پرانے شہر میں انتخابات کے دوران کوئی توجہ نہیں دی اس کے باوجود کئی نشستوں پر ٹی آر ایس امیدوار دوسرے نمبر پر رہے۔ ان امیدواروں کو حاصل ہونے والے ووٹ نے مقامی جماعت کے قائدین کی نیند اڑا دی ہے کیونکہ ٹی آر ایس کی جانب سے انتخابی مہم میں شدت اختیار نہ کیئے جانے کے باوجود غیر معروف امیدواروں نے جو ووٹ حاصل کئے ہیں وہ چوانکا دینے کیلئے کافی ہے۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی جانب سے شہر کے ارکان اسمبلی کیلئے دروازے کھولے جانے کی صورت میں حالات تبدیل ہونے کے قوی امکان ہیں چونکہ ٹی آر ایس قائدین کا دعوی ہے کہ دو ارکان اسمبلی حکومت سے رابطہ میں ہیں اور ان کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کیلئے راہیں ہموار ہونے کی صورت میں مزید ایک رکن اسمبلی تیار ہے۔ ٹی آر ایس کی جانب سے شادی مبارک اسکیم ‘ آسرا پینشن اسکیم‘ تعلیمی وظائف بالخصوص بیرون ملک تعلیم کیلئے 10لاکھ روپئے تک کی امداد ‘ جیسی اسکیمات نے اقلیتوں کو ٹی آر ایس کی جانب راغب کیا ہے علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے راست عوام تک رسائی کی کوششوں نے جو فائدہ پہنچایا ہے اس کے سبب پارٹی کو عوام میں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤنے پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے ٹی آر ایس قائد جناب محمد محمود علی کو ڈپٹی چیف منسٹر بنائے جانے اور ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ حاصل کرنے کے باوجود جناب محمد محمود علی کے عوام کے درمیان رہنے سے بھی کئی لوگ کافی متاثر ہیں ۔ پرانے شہر کے عوام کے درمیان سے ایک شخص ریاستی کابینہ میں پہنچنے کے مثبت نتائج کا عوام خود مشاہدہ کر رہے ہیں۔ کانگریس ‘ تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کے منتخبہ نمائندوں کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے بعد اب مقامی جماعت کے کارکن و قائدین ٹی آر ایس سے رابطہ میں آچکے ہیں ان اطلاعات کے ساتھ ہی بعض نوجوانوں نے شمولیت اختیار کرنی شروع بھی کردی ہے ۔ (سلسلہ صفحہ6)

TOPPOPULARRECENT