Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / قیمتی اوقافی جائیداد سڑک توسیع کی نذر ، وقف ایکٹ ماہرین کی مخالفت

قیمتی اوقافی جائیداد سڑک توسیع کی نذر ، وقف ایکٹ ماہرین کی مخالفت

بلدیہ کے حصول جائیداد پر تنازعہ ، ٹرسٹ کو معاوضہ کے استعمال کا معاہدہ
حیدرآباد۔ 25 ۔ نومبر (سیاست نیوز)  شہر میں واقع ایک قیمتی اوقافی جائیداد کی اراضی کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے سڑک کی توسیع کے سلسلہ میں حاصل کرلیا۔ تاہم یہ مسئلہ اس وقت تنازعہ کی شکل اختیار کرگیا جب وقف بورڈ نے اراضی کے معاوضہ کے استعمال کے سلسلہ میں ایک ٹرسٹ کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جو اس اراضی پر اپنا دعویٰ پیش کر رہا ہے ۔ وقف بورڈ کے اس اقدام پر کئی اعتراضات کئے جارہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ اور لا آفیسر نے ٹرسٹ کے ساتھ کسی بھی معاہدہ کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وقف ایکٹ کے تحت کسی بھی ایسے ادارہ سے معاہدہ نہیں کیا جاسکتا جو وقف بورڈ کے ریکارڈ میں بحیثیت متولی درج نہ ہو۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں کے دباؤ کے تحت وقف بورڈ نے ٹرسٹ کے ساتھ معاہدہ کیا اور 4 کروڑ روپئے معاوضہ کی رقم کے استعمال میں ٹرسٹ کو حصہ دار بنایا گیا ہے۔ وقف ایکٹ کے ماہرین نے بھی وقف بورڈ کے اس اقدام کی مخالفت کی۔ وقف ایکٹ کے تحت صرف مسلمہ متولی کے ساتھ ہی وقف بورڈ کوئی معاہدہ کرسکتا ہے لیکن یلا ریڈی گوڑہ میں واقع مقبرہ عماد الملک اور عقیل جنگ کی اراضی کے سلسلہ میں ایک ٹرسٹ کو معاوضہ کی رقم میں شریک بنادیا گیا ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ مذکورہ ٹرسٹ کے ذمہ داروں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے وقف بورڈ کو معاوضہ کی رقم کا جوائنٹ اکاؤنٹ کھولنے کیلئے مجبور کیا ۔

اس معاہدہ کے تحت جب بھی رقم خرچ کرنے کا مرحلہ ہو تو وقف بورڈ اور مذکورہ ٹرسٹ کے ٹرسٹی کی دستخط لازمی ہوگی۔ وقف قانون کے تحت صرف متولی کو اراضی کے معاوضہ کی رقم کے استعمال میں حصہ لینے کا اختیار ہے جبکہ اس اراضی اور قبرستان کے معاملہ میں مذکورہ ٹرسٹ خود کو متولی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ حالانکہ وقف بورڈ میں اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ اس کارروائی کے ذریعہ وقف بورڈ نے آئندہ کیلئے غلط مثال قائم کردی اور ایک غیر مسلمہ ٹرسٹ کو معاہدہ کے ذریعہ مسلمہ حیثیت دیدی ہے۔ واضح رہے کہ یلا ریڈی گوڑہ میں واقع اس اوقافی جائیداد کی 214 مربع گز اراضی کو میونسپل کارپوریشن نے سڑک کی توسیع کیلئے حاصل کرلیا ۔ اس اراضی کا معاوضہ تقریباً 4 کروڑ 76 لاکھ 36 ہزار روپئے مقرر کیا گیا ہے ۔ اس قدر خطیر رقم پر مذکورہ ٹرسٹ نے اپنی دعویداری پیش کردی۔ اعلیٰ عہدیداروں سے طویل مذاکرات کے بعد آخر کار وقف بورڈ نے مشترکہ اکاؤنٹ میں رقم جمع کرنے سے اتفاق کرلیا ہے ۔ جوائنٹ اکاؤنٹ کو چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ اور عماد الملک کا نمائندہ مشترکہ طور پر آپریٹ کریں گے۔ یہ رقم اراضی کی ترقی اور تحفظ کیلئے استعمال کی جائے گی ۔ موجودہ عہدیدار مجاز وقف بورڈ نے اس اقدام کی یہ کہتے ہوئے تائید کی ہے کہ معاوضہ کی رقم کا استعمال منشائے وقف کے مطابق ہوگا۔ لہذا ٹرسٹ کے ساتھ مشترکہ اکاؤنٹ کھولنے میں کوئی قباحت نہیں۔ وقف ایکٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ وقف بورڈ کے اس اقدام سے شہر کی دیگر قیمتی اوقافی جائیدادوں کے بارے میں بھی کئی فرضی ٹرسٹ اپنی دعویداری پیش کرسکتے ہیں۔ اس طرح وقف بورڈ کو جائیدادوں کے تحفظ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT