Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / لاؤ ڈ اسپیکرس پر پابندی مذہب میں مداخلت نہیں۔ ارشدمدنی

لاؤ ڈ اسپیکرس پر پابندی مذہب میں مداخلت نہیں۔ ارشدمدنی

نئی دہلی۔ حق وانصاف کی آواز بلند کرنے والے جمعیتہ علماء ہند کے صدر او ر درالعلوم دیو بند کے استاد حدیث مولانا سید ارشدمدنی نے مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکرکی پابندی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ یہ قطعی طور پر مذہب میں مداخلت نہیں ہے چنانچہ عدلیہ کے مطابق مساجد کی کمیٹیوں کو چاہئے ک وہ جلد ازجلد راجسٹریشن کرائیں۔

مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ پہلی چیز یہ سمجھنے کی ہے کہ لاؤڈاسپیکر کے استعمال پر صر ف مسجدوں میں پابندی عائد نہیں کی گئی ہے ۔ دوسری چیز یہ ہے کہ مندروں اور مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر پر پابندی حکومت اترپردیش کی طرف سے نہیں ہے بلکہ آلہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بنچ کی جانب سے فیصلے سنایاگیا ہے کہ رجسٹریشن کے بغیر مندروں اور مسجدوں میں لاؤ ڈداسپیکرس کی اجازت نہیں دی جائے گی پ تیسری چیز یہ ہے کہ اب تک جو خبریں ائی ہیں وہ یہ ہیں کہ ضلع انتظامیہ مساجد کے رجسٹریشن میں پورا پورا تعاون کررہی ہیں۔

مولانا مدنی نے کہاکہ عدالت عالیہ کا فیصلہ سسٹم کو چست درست کرنے کے لئے کیاگیا ہے اور یہ حکم صرف مسجدوں کے لئے نہیں بلکہمندروں اور دوسری مقامات پر لاؤڈ اسپیکرس کے استعمال پر ہے۔ دوسری چیز یہ ہے ہ اگر حکومت کااس میں عمل دخل ہوتا تو ظاہر ہے کہ مسجدوں کے رجسٹریشن میں ضلع انتظامیہ قطعی طور پر تعاون نہ کرتی بلکہ طرح طرح کی رکاوٹیں پید ا کی جاتیں۔ انہوں نے کہاکہ عدالت کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے ہمیں چاہئے کہ مسجدوں میں لاؤ اسپیکر کے استعمال کے لئے جلد از جلد رجسٹریشن کرالیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے مشورہ دا ہے کہ مساجد کی جو کمیٹیاں ہیں وہ اپنے وکیل کے ساتھ جو بھی کاغذی کاروائی ہے اس کو پورا کریں ۔ مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ جمعیتہ علماء ہند شہروں اور قصبوں میں موجود ہے اور ان کے کارکنان ہیں چنانچہ وہ رجسٹریشن میں ہر ممکن مدد کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہمارے پاس جو خبر ائی ہے وہ یہ ہے کہ وہ مدد کررہے ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ راجسٹریشن کاکام تیزی سے ہورہا ہے ۔

مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ ہمیں پورا پورا یقین ہے کہ لوگ امن واتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو باتوں کو سمجھیں گے اور عدالت کے فیصلے ک ااحترام کرتے ہوئے اپنی مسجدوں کے لاؤڈ اسپیکرس کا رجسٹریشن کرائیں گے۔ انہو ں نے کہاکہ کہیں کوئی بات پیدا نہیں ہوئی ہے بلکہ مسلمانوں نے عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے رجسٹریشن کرانے کاکام شروع کردیاہے

TOPPOPULARRECENT