Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / لائسنس بنانے کے بہانے غیر مجاز ایجنٹس میں اضافہ

لائسنس بنانے کے بہانے غیر مجاز ایجنٹس میں اضافہ

موٹر ڈرائیونگ اسکولس سے محکمہ ٹرانسپورٹ کے عہدیداروں کی ملی بھگت
حیدرآباد۔16اگسٹ (سیاست نیوز) محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کی لاپرواہی یا بے اعتنائی کے سبب شہر کے مختلف علاقوں میں موٹر ڈرائیونگ اسکول کی آڑ میں لائسنس بنانے والے غیر مجاز ایجنٹس کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ محکمہ آر ٹی اے کے عہدیداروں کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں مسلمہ حیثیت کے حامل صرف 125 موٹر ڈرائیونگ اسکولس ہیں جبکہ فی الحال شہر میں 400 سے زائد موٹر ڈرائیونگ اسکولس خدمات انجام دے رہے ہیںجو کہ موٹر ڈرائیونگ سکھانے کے علاوہ لائسنس بنانے کے کام انجام دیتے ہیں اور ان کے اس کام میں محکمہ کے بعض عہدیدار خود ملوث ہونے کے سبب ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی بلکہ ان کی جانب سے داخل کی جانے والی درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی ہونے لگتی ہے جوکہ ان موٹر ڈرائیونگ اسکولوں کی آمدنی کا اصل ذریعہ ہے۔ محکمہ آر ٹی اے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جی ایچ ایم سی حدود میں موجود ڈرائیونگ اسکولوں کی جانب سے چلائی جانے والی گاڑیوں کے فٹنس اور سکھانے والوں کے لائسنس کے متعلق تفصیلات جب تک آر ٹی اے میں موجود نہیں ہوتی انہیں ڈرائیونگ اسکول کے آغاز کی اجازت نہیں دی جاتی لیکن غیر قانونی ڈرائیونگ اسکولوں کی بہتات کی بنیادی وجہ لائسنس بنانے میں ہونے والی مشکلات بتائی جارہی ہیں کیونکہ یہ غیر مجاز ڈرائیونگ اسکولوں کی جانب سے 45یوم کے ڈرائیونگ کورس کیلئے 1500تا3000 روپئے وصول کئے جاتے ہیں جبکہ 2000تا2500 روپئے اضافی وصول کرتے ہوئے سیکھنے کیلئے پہنچنے والوں کو لائسنس کے حصول میں مکمل تعاون کیا جاتا ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔آر ٹی اے کے عہدیدارو ںکا کہنا ہے کہ جب تک لائسنس کی اجرائی کے مکمل عمل کو شفاف بنانے کیلئے اقدامات نہیں کئے جاتے اس وقت تک اس طرح کے غیر مجاز و غیر قانونی ڈرائیونگ اسکولوں کو برخواست کیا جانا ممکن نہیں ہے کیونکہ ان اسکولوں کے قیام کا مقصد ہی غیر قانونی کام کو قانونی طور پر تشہیر کے ذریعہ کرنا ہے ۔محکمہ آر ٹی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جس طرح تعلیمی اسکولوں کو اسکول کے قیام سے قبل محکمہ تعلیم سے مسلمہ حیثیت حاصل کرنی پڑتی ہے اسی طرح ڈرائیونگ اسکول کے آغاز کے لئے شرائط کو مکمل کرتے ہوئے محکمہ آر ٹی اے سے اجازت کا حصول لازمی ہے لیکن ایسا نہ کرتے ہوئے شہر میں من مانی ڈرائیونگ اسکول شروع کئے جانے لگے ہیں جو کہ غیر قانونی ہیں۔عہدیداروں نے بتایا کہ شہر میں چلائے جانے والے ان ڈرائیونگ اسکولوں کی جانب سے اہم سڑکوں پر گاڑیاں سکھانے کے دوران محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے چالانات کی گنجائش ہوتی ہے لیکن اس کے باوجودمحکمہ ٹریفک پولیس کی غفلت کے سبب یہ ڈرائیونگ اسکولس میں تربیت فراہم کرنے والے بھی بے خوف گاڑی سکھانے لگتے ہیں جبکہ آر ٹی اے کے اجازت نامہ کے بغیر چلائے جانے والے موٹر ڈرائیونگ اسکولوں کی گاڑیاں بھی ضبط کرنے کی موٹر وہیکل ایکٹ میں گنجائش فراہم کی گئی ہے اس کے باوجود جاری اس عمل کو روکنے کیلئے سخت اقدامات درکار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT