Saturday , September 22 2018
Home / ہندوستان / لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے دیہی آبادی کو نا قابل بیان مشکلات

لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے دیہی آبادی کو نا قابل بیان مشکلات

نئی دہلی / اسلام آباد ۔9اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام) پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں نے دونوں طرف کی متاثرہ دیہی آبادی کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے۔ دونوں جانب ہلاکتوں کی تعداد 18ہو گئی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔پاکستان اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی سرحد پر دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ اتوار کو شروع ہ

نئی دہلی / اسلام آباد ۔9اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام) پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں نے دونوں طرف کی متاثرہ دیہی آبادی کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے۔ دونوں جانب ہلاکتوں کی تعداد 18ہو گئی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔پاکستان اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی سرحد پر دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ اتوار کو شروع ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان پرتشدد کارروائیوں نے ایسے سوال اٹھائے ہیں کہ 2003 کے جنگ بندی پر پابند یہ دونوں ملک شہری آبادی کو کیسے نشانہ بنا سکتے ہیں۔فریقین ایک دوسرے پر لڑائی میں پہل کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ کیسے بھی شروع ہوا ہو، اس نے سرحد کے دونوں جانب کی دیہی آبادی کو دْکھ تکلیف میں مبتلا کر دیا ہے۔کشمیر کے ہندوستانی زیر انتظام علاقے سے تقریبا نصف کلومیٹر پر واقع پاکستانی گاؤں دھمالہ حاکم والا میں اِرم شہزادی رواں ہفتے پیر کی صبح ناشتہ تیار کر رہی تھی کہ اس کا گھر ہندوستان کی جانب سے فائر کئے گئے مارٹر گولوں کی زد میں آ گیا۔

اس کے نتیجے میں اس کی ساس اور پانچ اور آٹھ برس کی عمروں کے اس کے دو بیٹے ہلاک ہو گئے۔سیالکوٹ کے ایک ملٹری ہاسپٹل میں چہارشنبہ کو اپنے چھ سالہ بیٹے کے ساتھ بیٹھی شہزادی کا کہنا ہے کہ ’’میری تو دْنیا ہی لْٹ گئی۔‘‘ہندوستان کی طرف ایک کسان گْلشن کمار نے منگل کی رات اپنے خاندان کے ساتھ خوف کے سائے میں گزاری جبکہ پاکستان کی جانب سے فائر کئے گئے مارٹر گولے اس کے گاؤں چلیاری پر گرتے رہے۔اس نے صحافیوں کو بتایا ’’ایک گولہ ہمارے پڑوس میں گرا جس کے نتیجے میں 70سالہ خاتون اور اس کی 32سالہ بہو ہلاک ہو گئی۔‘‘دونوں جانب کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ جھڑپیں 2003 ء کی جنگ بندی کی اب تک کی بد ترین خلاف ورزی ہے۔ اس کے نتیجہ میں شہری ہلاک ہورہے ہیں ۔ تاحال 9پاکستان کی جانب اور 9ہی ہندوستان کی جانب ہلاک ہوئے ‘ رپورٹ کے مطابق جمعرات کو علی الصبح ہندوستان کی جانب ہلاک ہونے والی دو خواتین بھی شامل ہیں۔دونوں جانب ہزاروں دیہاتی اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں۔ دونوں جانب کی خوفزدہ دیہی آبادی کا کہنا ہے کہ وہ تشدد کے اس سلسلے سے بیزار ہے۔ہندوستانی گاؤں ریگل میں چہارشنبہ کی صبح چار ٹریکٹر ٹرالیوں میں درجنوں افراد نے نقل مکانی کی۔ ان میں شامل درشانو دیوی کا کہنا تھا کہ ’’ایک مرتبہ پھر ہم اپنے گھروں سے فرار ہو رہے ہیں، سب کچھ پیچھے چھوڑ کر۔‘‘اْدھر سیالکوٹ کے ملٹری ہاسپٹل میں ایک جوڑا بھی ہندوستانی شل باریکے نتیجہ میں زخمی پڑا ہے۔ نئی دہلی میں قائم ایک تھنک ٹینک سوسائٹی فار پالیسی اسٹڈیز کے دفاعی تجزیہ کار اْدھے بھاسکر کا کہنا ہے: ’’اس وقت دونوں فریق ڈٹے ہوئے ہیں، ان کے کمانڈروں کی کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے اورعام شہریوں کی ہلاکتیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT