Thursday , June 21 2018
Home / ہندوستان / لارڈ کرشنا کی 16,108 بیویاں اور 161,080 اولاد

لارڈ کرشنا کی 16,108 بیویاں اور 161,080 اولاد

نئی دہلی ۔ 20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں ہندوتوا کی حامی طاقتیں مسلمانوں کی آبادی سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ بار بار ہندوؤں کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کا نہ صرف مشورہ دے رہی ہیں بلکہ ایسے مطالبے کر رہی ہیں جیسے ہندو خاتون بچے پیدا کرنے کی خود کار مشین ہو۔ اگرچہ فی الوقت ملک میں سنگھ پریوار کی سیاسی ونگ بی جے پی کی حکومت ہے گ

نئی دہلی ۔ 20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں ہندوتوا کی حامی طاقتیں مسلمانوں کی آبادی سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ بار بار ہندوؤں کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کا نہ صرف مشورہ دے رہی ہیں بلکہ ایسے مطالبے کر رہی ہیں جیسے ہندو خاتون بچے پیدا کرنے کی خود کار مشین ہو۔ اگرچہ فی الوقت ملک میں سنگھ پریوار کی سیاسی ونگ بی جے پی کی حکومت ہے گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی و قتل عام کیلئے ساری دنیا میں بدنام نریندر مودی عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز ہیں، ملک کے ہر شعبہ میں فرقہ پرستوں کا اثر بڑھتا جارہا ہے ، اس کے باوجود ہندوتوا قائدین ، سادھو و سادھویاں ہندوؤں سے بار بار زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی مانگ کر رہے ہیں۔ دلچسپی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ ہندوؤں کو چار اور دس بچے پیدا کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، خود ان میں سے بیشتر بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ صرف اور صرف ہندو سماج میں اپنی شہرت میں اضافہ کیلئے ایسا کررہے ہیں ورنہ بچوں کی پیدائش کی صلاحیت سے تو وہ کوسوں دور ہیں۔ پروین توگاڑیہ ، ساکشی مہاراج ، سادھوی پراچی سے لیکر چھوٹے موٹے ہندو لیڈر خواتین کو مشورے دینے لگے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہوئے اپنی مذہب کی بقاء کو یقینی بنائیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہندوستان میں ہندو سماج کو کس سے خطرہ درپیش ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آج ملک میں ہندو مذہب کو کسی طاقت سے خطرہ ہے تو وہ ہندوتوا کے نام پر ا پنی روٹیاں سینکنے اور مذہبی استحصال کے ذریعہ اقتدار کے مزے لوٹنے والوں سے ہے ۔ عام ہندوؤں کو اس طرح اشتعال دلاکر ہندوستان اور اس کی گنگا جمنی تہذیب کو نقصان پہنچانے والوں سے چوکنا رہنا چاہئے۔ حال ہی میں ساکشی مہاراج نے ہندو خواتین پر زور دیا تھا کہ وہ کم از کم چار بچے پیدا کریں لیکن ساکشی مہاراج سے دو چار قدم آگے بڑھتے ہوئے وی ایچ پی کے کارگزار صدر توگاڑیہ نے ہندوؤں پر زور دیا کہ وہ 8 تا 10 بچے پیدا کریں۔ اپنی زہر افشانی کیلئے بدنام توگاڑیہ نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس نے مرکزی وزیر سادھوی نرنجن جیوتی کے متنازعہ ’’حرام زادہ اور رام زادہ‘‘ ریمارکس کی بھی تائید و حمایت کی ۔ توگاڑیہ نے جو پیشہ سے ڈاکٹر ہونے کے باوجود اکثر قصائیوں جیسی باتیں کرتے ہیں، ہندوتوا کے دیگر حامیوں کے ساتھ مل کر یہ بھی کہا کہ گھر واپسی اور لوو جہاد کی مہم جاری رہے گی۔ توگاڑیہ کے خیال میں عامر خاں کی بالی ووڈ سپر ہٹ فلم ’’پی کے‘‘ ہندوؤں کے خلاف ایک سازش ہے۔ توگاڑیہ کو مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کی آبادی میں اضافہ پر بہت زیادہ پریشانی ہے ۔ وی ایچ پی کے ہندو سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے اس نے یہ بھی کہا کہ اب ملک میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کیلئے سیاستدانوں میں زبردست مسابقت پائی جاتی ہے ۔ انہیں ہندو نوجوانوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔ توگاڑیہ کے خیال میں اب وشوا ہندو پریشد ہندو آبادی کو 82 فیصد سے 42 فیصد نہیں ہونے دیں گے۔ آج ہندوؤں کو ہندوستان میں تحفظ کیلئے آبادی میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کا موجودہ نظام ہندوؤں کا تحفظ نہیں کرسکتا۔ توگاڑیہ نے ہندوؤں سے آبادی بڑھانے کے عہد کرنے پر بھی زور دیا ۔ ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے توگاڑیہ کے ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے رامچندریہ راگھو چاری کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں ہندو خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں ان کے بھگوان کرشنا کی 16108 بیویاں تھیں اور ہر ایک بیوی سے 10 بچے پیدا ہوئے۔ اس طرح وہ بیک وقت 161080 بچوں کے باپ تھے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا میں انہی کی حکمرانی ہوگی جس کی زیادہ آبادی ہوگی ۔ اس سلسلہ میں وہ کہتے ہیں کہ ان کے بھگوان رام نے اپنے بھائی بھرت کو بھی زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔ دوسری طرف ایودھیا سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے پجاری کنہیا داس کہتے ہیں کہ اب ’’ہم دو ہمارے دو‘‘ کا نعرہ چلنے والا نہیں بلکہ ہر ہندو خاندان میں کم از کم 8 بچوں کی پیدائش ہو۔ ہندو سمیلن میں مقررین نے جی کھول کر زہر افشانی کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ایسی مہم کی حفاظت کیلئے ہتھیار اٹھانے کیلئے تیار ہیں۔ توگاڑیہ کا دعویٰ ہے کہ گھر واپسی کا آغاز 700 سال قبل جگت گرو نے کیا تھا اور اس وقت 25 ہزار مسلمانوں کو ہندو بنایا گیا۔ جیوتی پیٹھ کے شنکر اچاریہ سوامی واسو دیو انند سرسوتی نے سنت سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوؤں کو چار بچے پیدا کرنے کا مشورہ دینا غلط ہے ۔ ملک انہیں تو کم از کم دس بچے پیدا کرنے چاہئے تاکہ ہندو مذہب کی حفاظت کی جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT