Tuesday , December 11 2018

لال جوار کے کسانوں کو بقایاجات کی ادائیگی

نظام آباد :13؍اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر رائونے آرمور کے دورہ کے موقع پر لال جوار کسانوںکو زیر التواء بقایہ جات کی ادائیگی کا اعلان کیا تھا اسے عملی جامہ پہناتے ہوئے کسانوں کو 9.80کروڑ روپئے منظور کیا ہے۔ چیف منسٹر کے اعلان پر کسانوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی ،واضح ررہے کہ سال 2007 ء میں اس وقت کے کلکٹر راما انج

نظام آباد :13؍اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر رائونے آرمور کے دورہ کے موقع پر لال جوار کسانوںکو زیر التواء بقایہ جات کی ادائیگی کا اعلان کیا تھا اسے عملی جامہ پہناتے ہوئے کسانوں کو 9.80کروڑ روپئے منظور کیا ہے۔ چیف منسٹر کے اعلان پر کسانوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی ،واضح ررہے کہ سال 2007 ء میں اس وقت کے کلکٹر راما انجنیلو نے لال جوار کے کسان اور سیڈس کی کمپنیوں کے درمیان معاہدہ کروایا تھا اور سیڈس کمپنیوں نے 5لاکھ 11 ہزار کنٹل لال جوار کی خریدی کی تھی۔ فی کنٹل 1540 روپئے کے حساب سے 2لاکھ 3 ہزار کنٹل کو ہی 32 کروڑ ادا کیا تھا اور باقی رقم کو کسانوں کو ادا کرنے کی رقم ادا نہ کرنے پر کسانوں نے احتجاج کرنا شروع کیا تھا اور 11؍ جون 2007 ء کو کسانوں نے مرن برت کا آغاز کیا تھا اس کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے کوئی واضح اعلان نہ کئے جانے پر 16؍ جون 2008 ء کے بعد کسانوں نے کل جماعتی قائدین کے ہمراہ قومی شاہراہ 44 مامڑی پلی پر راستہ روکو کرنا شروع کیا اس راستہ روکو کے دوران پولیس اور کسانوں کے درمیان ہوئی دھکم پیل ہوئی اور مہی پال ریڈی نامی تاجر کے مکان پر کئے گئے حملے اور پولیس نے فائرنگ کی جس میں ویلپور منڈل کے موضع پڑکل کے کسان شیکھر زخمی ہوگئے تھے اور ان کے علاوہ پولیس کی لاٹھی چارج اور فائرنگ میں دیگر کسان بھی زخمی ہوگئے تھے جس پر اے پی سیڈس کے ذریعہ لال جوار کی خریدی کیلئے حکومت نے احکامات جاری کیا تھا اور 3لاکھ کنٹل لال جوار کو اے پی سیڈس کے ذریعہ خریدتے ہوئے 35 کروڑ ادا کیا تھاباقی 10 کروڑ 83لاکھ ماہ اگست 2008 ء میں ادا کرنے کا تیقن دیا تھا۔ کسانوں پر ہوئے حملے کے بعد ٹی آرایس کے سربراہ مسٹر چندر شیکھر رائو نے آرمور کا دورہ کرتے ہوئے کسانوں سے اظہار یگانگت کی تھی ۔ اے پی سیڈس کی جانب سے خریدے گئے لال جوار کے9کروڑ 80لاکھ بقایہ جات کی ادائیگی کیلئے کسانوں کی جانب سے تحریک کا آغاز کیا تھا اور 2009 ء کے انتخابات میں تحریک چلانے پر اس کا اثر انتخابات پر ہوا اور آرمور حلقہ سے کانگریس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور 2009 ء میں کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد اس وقت کے وزیر زراعت رگھو ویرا ریڈی نے اسمبلی میں لال جوار کے کسانوں کو بقایہ جات کی ادائیگی حکومت کی جانب سے نہ کرنے کا واضح اعلان کیا اس کے باوجود آرمور، بالکنڈہ، نظام آباد رورل حلقہ کے 108 دیہاتیوں کے کسان اپنے بقایہ جات کی ادائیگی کیلئے ہمیشہ مطالبہ کرتے ہوئے تحریک کو زندہ رکھا تھا ،2014 ء میں منعقدہ انتخابات میں ٹی آرایس کے سربراہ انتخابی مہم کے دوران ٹی آرایس اقتدار پر آنے کی صورت میں لال جوار کے کسانوں کو بقایہ جات کی ادائیگی کا اعلان کیا تھا اور اسی کے تحت آرمور کے دورہ کے موقع پر جلسہ عام میں بقایہ جات کی ادائیگی کا اعلان کرتے ہوئے کل اسے عملی جامہ پہناتے ہوئے 9کروڑ 80لاکھ اجرائی عمل میں لاتے ہوئے وزیر زراعت مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی کو کسانوں کو ان کے گھر پہنچ کر بقایہ جات کی ادائیگی کیلئے احکامات جاری کیا۔ رکن اسمبلی آرمور جیون ریڈی کی نمائندگی پر چیف منسٹر کی جانب سے بقایہ جات کی اجرائی پر نہ صرف کسان بلکہ آرمور حلقہ کے عوام میں بھی مسرت پائی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT