Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / لاوارث مسلم میتوں کی احترام کے ساتھ تدفین۔ ’سیاست‘ کی گرانقدر خدمات

لاوارث مسلم میتوں کی احترام کے ساتھ تدفین۔ ’سیاست‘ کی گرانقدر خدمات

عثمانیہ ہاسپٹل مارچری میں 200سے زائد نعشیں ابتر حالت میں، ایک بھی مسلم میت شامل نہیں

… سیاست فیچر …
حیدرآبا۔/6 مئی ۔ عثمانیہ ہاسپٹل مارچری ( مردہ خانہ ) میں تقریباً 200سے زائد لاوارث نعشوں کی ابتر صورتحال کے بارے میں میڈیا کے انکشافات نے سماج کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ تلنگانہ کے نامور سرکاری دواخانہ میں نعشوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ سلوک یقیناً چونکا دینے والا اور انسانیت سوز ہے لیکن حکام بھی اس صورتحال کو بہتر بنانے میں بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ نعشوں کو کسی احترام کے بغیر کوڑا کرکٹ کی طرح بیدردی کے ساتھ ایک دوسرے پر پھینک دیا گیا ہے اور ان سے اُٹھنے والے بدبو اور تعفن اطراف کے ماحول کو نہ صرف آلودہ کرنے کا سبب بن رہے ہیں بلکہ عوام کی صحت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ نعشوں کے ساتھ اس طرح کی بے حرمتی کا سابق میں بھی انکشاف ہوا جس پر روز نامہ ’سیاست‘ نے فوری حرکت میں آتے ہوئے لاوارث مسلم نعشوں کی تدفین کا بیڑہ اُٹھایا۔ بے گورو کفن نعشوں کو مکمل احترام اور اسلامی طریقہ سے تدفین کی اس تحریک کا سہرا ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں کے سر جاتا ہے۔ انھیں جب اس بات کی اطلاع ملی تھی کہ عثمانیہ ہاسپٹل مارچری میں نعشوں کی اس طرح سے بے حرمتی کی جاتی ہے اور غیر مسلم لاوارث نعشوں کے ساتھ مسلم لاوارث میتوں کو بھی اجتماعی طور پر نذر آتش کرنے کیلئے بھیج دیا جاتا ہے۔ اس اطلاع پر جناب زاہد علی خاں نے فوری پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے ربط قائم کیا اور گریٹر حیدرآباد حدود میں تمام لاوارث مسلم میتوں کو تجہیز و تکفین کیلئے روز نامہ سیاست کے حوالے کرنے کی خواہش کی۔ پولیس نے اس تجویز سے اتفاق کرلیا جس کے بعد سے مسلم لاوارث میتوں کی اسلامی طریقہ سے تدفین کا آغاز ہوا۔’سیاست‘ کی اس مساعی کے نتیجہ میں شہر میں ایک بھی مسلم لاوارث میت کو مجلس بلدیہ کے حوالے نہیں کیا جارہا ہے بلکہ ’سیاست‘ اس کی ذمہ داری لے رہا ہے۔ ابھی تک 4000 سے زائد مسلم لاوارث میتوں کی تدفین کا سیاست نے انتظام کیا اور ہفتہ میں کم از کم 4 تا 5 لاوارث میتوں کی اطلاع سیاست کو موصول ہوتی ہے۔ جناب زاہد علی خاں نے اس کام کی تکمیل کیلئے باقاعدہ ایک ٹیم تیار کردی ہے جو غسل سے لیکر تدفین کا مکمل انتظام کرتی ہے۔ مقامی علماء کے ذریعہ نماز جنازہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ امت مسلمہ کی جانب سے سیاست کی اس مساعی کی نہ صرف ستائش کی جارہی ہے بلکہ اس کام میں اہل خیر حضرات اپنا دست تعاون دراز کررہے ہیں۔ عثمانیہ ہاسپٹل مارچری میں جن 200 نعشوں کی ابتر حالت کا انکشاف ہوا ہے ان میں ایک بھی مسلم میت نہیں ہے جو ’سیاست‘ کی مہم کا واضح طور پر ثبوت ہے۔ ’سیاست‘ نے لاوارث میتوں کو مکمل احترام کے ساتھ اسلامی طریقہ سے تدفین کا اہتمام کرتے ہوئے ملک بھر میں مثال قائم کی ہے۔ عثمانیہ ہاسپٹل مارچری میں نعشوں کی ابتر حالت کے بارے میں میڈیا نے انتہائی دلخراش تصاویر کو شائع کیا جس سے حکام کی لاپرواہی کا اندازہ ہوتا ہے۔ میڈیا میں تصاویر منظر عام پر آتے ہی حکام نے فوری حرکت میں آتے ہوئے نعشوں کو مجلس بلدیہ کے ذریعہ منتقل کردیا۔ قواعد کے مطابق پوسٹ مارٹم کے 72 گھنٹے کے اندر نعشوں کو آخری رسومات کیلئے حوالے کردیا جانا چاہیئے۔ مارچری کی جانب سے 72 گھنٹوں تک لواحقین کا انتظار کیا جاتا ہے جس کے بعد یہ نعش حکومت کی ملکیت بن جاتی ہے جس پر کسی کا حق نہیں ہوتا اور مقررہ مدت کے بعد اجتماعی طور پر آخری رسومات انجام دی جاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مارچری میں 8 فریزرس ہیں جن میں ہر ایک میں 4 نعشیں رکھی جاسکتی ہیں۔ 2 فریزرس کام نہیں کررہے ہیں۔ ڈاکٹرس، طلباء اور اسٹاف کو اسی ابتر ماحول میں کام کرنا پڑ رہا ہے اور کسی نعش کو حاصل کرنے کیلئے لواحقین بدبو اور تعفن میں انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ موسم گرما میں 200 تا 300 نعشیں مارچری کو منتقل کی گئی ہیں جن میں 50 تا 70 لاوارث ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مجلس بلدیہ کے حکام لاوارث نعشوں کو بروقت حاصل نہیں کرتے جس کے باعث غیر قانونی طریقہ سے نعشوں کی فروخت کا کاروبار بھی چلتا ہے۔ مارچری سے متصل پوسٹ گریجویٹ ہاسٹل ہے جس کے طلبہ بیماریوں سے متاثر ہونے کی شکایات کرتے ہیں۔ میڈیا میں مارچری کی ابتر صورتحال کے انکشاف کے بعد کئی درد مند دل رکھنے والی شخصیتوں نے روزنامہ ’سیاست‘ سے ربط قائم کرتے ہوئے مسلم لاوارث میتوں کو مکمل احترام کے ساتھ تدفین کرنے پر جناب زاہد علی خاں سے اظہار تشکر کیا اور انہیں دعائیں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ’سیاست‘ یہ کام اپنے ذمہ نہ لیتا تو مسلم میتیں بھی غیروں کے ساتھ آخری رسومات کیلئے شمشان گھاٹ روانہ کردی جاتیں۔

TOPPOPULARRECENT