لاوڈ اسپیکرس پر پابندی

گذروں گا میں جو منزل دشوار سے کبھی
خود زندگی سے مل کے قضا ساتھ جائے گی
لاوڈ اسپیکرس پر پابندی
ہندوستان کی حکمراں پارٹی اپنے خفیہ منصوبوں اور پالیسیوں کو بتدریج روبہ عمل لانے میں کامیاب ہورہی ہے ۔ ہندوستانی مسلمانوں کو مختلف عنوانات سے پریشان کرنے کا سلسلہ اب شدت اختیار کررہا ہے ۔ گذشتہ چار سال سے برسر اقتدار بی جے پی حکومت اور اس کی ریاستی حکمراں طاقتیں علاقائی سطح پر مسلمانوں اور ان کے مذہبی امور میں مداخلت کو اپنی کامیابی کا اہم راز مان کر پے در پے کارروائیاں کررہی ہیں ۔ تازہ کارروائی میں یو پی حکومت نے مساجد سے لاوڈ اسپیکر ہٹالینے کا حکم جاری کیا ہے ۔ مساجد سے اذاں کی آواز پر اعتراضات کرنے والے گروپس کو اب اپنی دیرینہ خواہش کی تکمیل کا موقع دیا جارہا ہے ۔ یو پی میں جب سے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت آئی ہے ، ریاست یو پی کے مسلمانوں کو دینی مدرسوں ، مذہبی مقامات ، مسلمانوں کے روزگار ، گاؤ کشی اور لوجہاد کے حوالے سے نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ مذہبی تہواروں کے موقع پر اسلامی تعطیلات کو 10 سے گھٹا کر4 کردیا گیا ۔ اس کی جگہ دینی مدارس پر لازم قرار دیا گیا کہ وہ ہولی ، دیپاولی اور دیگر ہندو تہواروں کے موقع پر اپنے ادارے بند رکھیں اور تعطیلات کا اعلان کریں ۔ اسلامی ایام میں دی گئی سرکاری تعطیلات کی تعداد گھٹا کر خاص کر عید میلاد النبیؐ کی سرکاری تعطیل ختم کر کے آدتیہ ناتھ حکومت نے اپنی مسلم دشمنی کا ثبوت دیدیا تھا ۔ اب مساجد سے لاوڈ اسپیکر ہٹالینے کی ہدایت ایک فرقہ پرستانہ و تعصب پسندانہ پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے صوتی آلودگی کے حوالے سے لاوڈ اسپیکرس کے استعمال پر پابندی کی رائے ظاہر کی تھی اور یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے کورٹ کی رائے پر عمل کرنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاست یو پی کی عبادت گاہوں سے لاوڈ اسپیکر ہٹالینے کا حکم دیا ہے ۔ یہ ایک منظم سازش کا حصہ ہے۔ مساجد کی میناروں سے اذاں کی آواز کو ناپسند کرنے والے گروپس نے حکومت کا سہارا لے کر اپنے ذاتی تعصبانہ مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ آگے چل کر مزید سخت اقدامات بھی کئے جائیں گے ۔ طرح طرح کی پابندیوں کے ذریعہ مسلمانوں کو ہراساں و پریشان کیا جاسکتا ہے ۔ اترپردیش میں جب سے بی جے پی کو دوبارہ اقتدار ملا ہے وہ اس ریاست کی فرقہ وارانہ صورتحال کو کشیدہ بنانے والے کام انجام دینے کی مبینہ کوشش کررہی ہے ۔ اس ریاست میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ سنگین ہے ۔ قتل و غارت گری جاری ہے ۔ اس پر دھیان نہیں جاتا ۔ لوٹ مار عصمت ریزی اور ڈاکہ زنی کرپشن جیسے جرائم بکثرت دکھائی دے رہے ہیں ۔ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت اور اس کا نظم و نسق جرائم پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے ۔ بی جے پی نے حالیہ برسوں میں رائے دہندوں سے ووٹ کئی وعدوں کے ساتھ مانگا تھا لیکن یہ وعدے پورے نہیں ہوئے ۔ اپنے وعدوں میں ناکامی کو چھپانے کے لیے مسلمانوں کو سامنے کررہی ہے اور ان کے مذہبی امور سے لے کر سماجی و تعلیمی شعبوں میں مداخلت کرتے ہوئے دیگر ابنائے وطن کو گمراہ کرنے کوشاں ہے یہ ایک ایسا حربہ ہے جس کو استعمال کر کے مرکز و ریاستی سطح کی حکمراں پارٹی اپنی سیاسی بقاء کا موقع تلاش کررہی ہے ۔ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے لاوڈ اسپیکر کے استعمال پرپابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے تو اس فیصلہ کی روشنی میں یو پی میں کتنے مذہبی مقامات سے لاوڈاسپیکر کے استعمال کو روکنے میں کامیاب ہوگی ، یہ غور طلب ہے ۔ صرف مساجد کو نشانہ بنایا جائے تو یہ حکومت کی سراسر جانبدارانہ کارروائی ہوگی ۔ یوگی حکومت نے حلف لینے کے بعد سب سے پہلا کام غیرقانونی سلاٹر ہاوزس کو بند کرنے کا کیا تھا ۔ اس فیصلہ کا مقصد آلودگی پر قابو پانا اور گندگی کو دور کرنا تھا لیکن اس کے پس پردہ اصل مقصد مسلمانوں کو معاشی طور پر کمزور کرنا تھا جس کے بعد مسلمانوں کی تجارت کو نشانہ بناکر ان کو روزگار سے محروم کردیا گیا ۔ اب مسلمانوں کے عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ گذشتہ 15 اگست کو بھی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے یو پی کے تمام دینی مدارس کے نام ایک سرکیولر جاری کر کے کہا ہے کہ وہ 15 اگست کی تقریب کا اہتمام کریں اور اسکولوں میں پرچم کشائی انجام دیں ۔ قومی ترانہ گائیں اور اس کی ویڈیو گرافی کر کے حکومت کو روانہ کریں۔ جن مدارس نے اس ہدایت کی پابندی نہیں کی ان پر حکومت کا عتاب نازل ہوا ۔ ایک جمہوری اور سیکولر دستوری ملک میں اگر علاقائی و مرکزی سطح پر حکمراں پارٹی اپنی من مانی کے ذریعہ ہندوستانی اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرتے جائے گی تو یہ حرکت آگے چل کر سنگین رخ اختیار کرسکتی ہے ۔ حکومت کو اپنے عوامی فلاح و بہبود کے کاموں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ آدتیہ ناتھ یوگی حکومت میں آنے کے بعد سے ریاست کا صحت عامہ کا مسئلہ سنگین ہوگیا ہے ۔ دواخانے قتل خانوں میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔ بہر حال حکومت اپنی ناکامیوں کو پوشیدہ رکھنے کے لیے مسلمانوں اور ان کے مذہبی اداروں کے خلاف کارروائیوں کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنا چاہتی ہے ۔ یہ پالیسی بہرحال حکومت کے لیے طویل مدتی فال نیک نہیں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT