لاپتہ صحافی : سعودی ۔ ترکی مذاکرات

انقرہ ۔ 12 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی وفد لاپتہ صحافی جمال خشوگی کے بارے میں بات چیت کیلئے ترکی پہنچ گیا۔ سعوی عرب اور ترکی گذشتہ ہفتہ سعودی عرب کی لاپتہ صحافی کے بارے میں ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ ترکی نے سعودی عرب کے قونصل خانہ برائے استنبول کی تلاشی لی گئی تھی۔ تنازعہ میں شدت پیدا ہوجانے کی بناء پر واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی کہ اس تنازعہ سے نہ صرف کمزور ترکی ۔ سعودی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں بلکہ مملکت سعودی عرب کی شبیہہ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مغربی ممالک کے ساتھ مملکت کے تعلقات متثار ہوسکتے ہیں جبکہ ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان اصلاح کی تحریک کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ سعودی صحافی اور واشنگٹن پوسٹ جس میں خشوگی کے مضامین شائع ہوا کرتے تھے، 2 اکٹوبر کو ان کے لاپتہ ہوجانے کی بناء پر حکومت ترکی نے اطلاع دی ہیکہ پولیس کو یقین ہیکہ صحافی کو سعودی عرب کی جانب سے قتل کیا گیا ہے جبکہ سعودی عرب اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ سعودی عرب کا وفد جس کی ہیئت ترکیبی فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی۔ ترک عہدیداروں سے ہفتہ کے دن ملاقات کرے گا۔ سرکاری ذرائع ابلاغ نے آج اس کی خبر دی ہے۔ ترکی قیادت تاحال سعودی عرب پر الزام تراشی سے گریز کرتی رہی ہے۔ تاہم حکومت حامی ذرائع ابلاغ بشمول ’’قاتل ٹیم‘‘ کو خشوگی کے قتل کیلئے روانہ کیا گیا تھا۔ اس واقعہ پر سعودی عرب کے سفیر برائے برطانیہ شہزادہ محمد بن نواف السعود نے بی بی سی سے کہا کہ انہیں اپنے شہریوں کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے سعودی عرب کو ٹیلیفون کرتے ہوئے مملکت کو چیلنج کیا ہیکہ اپنے دعوی کی تائید میں سی سی ٹی وی جھلکیاں فراہم کریں۔ خشوگی سعودی شہری ہے جو امریکہ میں ستمبر 2017ء سے مقیم تھا۔ اسے محمد بن سلمان کی بعض پالیسیوں پر تنقید کی وجہ سے گرفتاری کا خوف تھا۔ اس نے یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی مداخلت کی خلاف ورزی بھی کی تھی۔ واشنگٹن پوسٹ نے اطلاع دی ہیکہ ترکی حکومت نے امریکی عہدیداروں سے کہہ دیا ہیکہ اس کے پاس آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ ہیں۔ ان سے ظاہر ہوتا ہیکہ خشوگی سے تفتیش کی گئی تھی۔ اسے اذیت رسانی کی گئی تھی اور بعدازاں اسے قتل کردیا گیا تھا۔ قونصل خانہ میں اس کی نعش کے ٹکڑے کئے گئے تھے۔ ترکی عہدیداروں نے اے ایف پی سے ربط قائم کیا تھا لیکن انہوں نے اس خبر کی صداقت کی تائید کرنے سے انکار کردیا۔

TOPPOPULARRECENT