Sunday , June 24 2018
Home / دنیا / لاپتہ طیارہ افغانستان میں موجود، روسی میڈیا کاحیرت انگیزانکشاف

لاپتہ طیارہ افغانستان میں موجود، روسی میڈیا کاحیرت انگیزانکشاف

ماسکو، بیجنگ۔6اپریل( سیاست ڈاٹ کام) روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے ملائیشیا کا لاپتہ طیارہ افغانستان کے علاقے قندھار کی ایک دیہی سڑکپر کھڑا ہے، جس کا ایک پر ٹو ٹا ہوا ہے، تمام مسافر زندہ ہیں اورانہیں سات گروپوں میں تقسیم کر کے مٹی کے جھونپڑوں میں قید رکھا گیاہے۔ ماسکو سے شائع روسی زبان کے اخبار روزنامہ’’ کومسومو لیٹس موسکووسکی ‘‘کے

ماسکو، بیجنگ۔6اپریل( سیاست ڈاٹ کام) روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے ملائیشیا کا لاپتہ طیارہ افغانستان کے علاقے قندھار کی ایک دیہی سڑکپر کھڑا ہے، جس کا ایک پر ٹو ٹا ہوا ہے، تمام مسافر زندہ ہیں اورانہیں سات گروپوں میں تقسیم کر کے مٹی کے جھونپڑوں میں قید رکھا گیاہے۔ ماسکو سے شائع روسی زبان کے اخبار روزنامہ’’ کومسومو لیٹس موسکووسکی ‘‘کے مطابق طیارے میں سوار 227 مسافر اور 12 ارکان عملہ کو 8مارچ کواغواکیا گیا اور اسے افغانستان کے جنوب مشرققندھار میں اتار ا گیا، طیارہ ٹوٹے پر کے ساتھ ایک دیہی علاقے کی چھوٹی سی سڑک پر کھڑا ہے۔ طیارے کے بارے بتایا گیا کہ اس نے بڑی مشکل سے لینڈنگ کی۔ تمام مسافر زندہ ہیں اور سات گروپوں میں تقسیم کرکے مٹی کے گھروں میں رکھے گئے ہیں‘مسافروں کی حالت کسمپرسی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طیارے کو 20 ایشیائیماہریننے اغواکیا،۔

یہ تمام صورت حال اخبار کے رپورٹر کوفوج نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا۔ اخبار نے ماہرین سے اس بارے پوچھا کہ کیا بوئنگ طیارہ کسی دیہی سڑک پر لینڈ کر سکتا ہے تو کہا گیا کہ ایسا ممکن ہے ۔1968ء میں روس میں ایک ایسی ہی لینڈنگ ہوئی تھی یہ 104 طیارہ تھا جو ماسکو سے لینن گراڈ جا رہا تھا، فوجی عہدیداروںاس اطلاعپر کئی ماہرین شک و شبہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہندوستانی سائٹ ”انڈین ڈیفنس” کے مطابق 8 مارچ 2014 لاپتہ ہونے والے ملائشیاء کے فلائیٹ 370 کو کئی ممالک میں ابھی بھی تلاش جاری ہے۔کئی لوگ اس بات پر یقین کر رہے ہیں کہ مسافروں کی طرف سے ایک مبینہ طور پر بھیجی گئی تصویر امریکی فوجی اڈے ڈیگو گارشیا کے نزدیک سے لی گئی ہے۔ لیکن روسی ذرائع ابلاغ ایم کے آر یو کے مطابق طیارے نے طالبان کے کنٹرول علاقے میں پاک افغان سرحد کے قریب لینڈکیا۔

ادھرچینی ساحلی محافظین کے جہاز نیبحر ہند کے جنوبی پانیوں میں بلیک بکس کے سگنلز کی نشاندہی کی ہے۔ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ سگنلز ملائیشین طیارے کے ہوسکتے ہیں۔ غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق سگنلز کے بارے میں یہ خیال کیا جارہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ لاپتا طیارے کے بلیک باکس کے سگنلز ہوں، چینی ساحلی محافظین کیجہاز کو ممکنہ طورپر ملائشین طیارے کی فریکوئنسی والے یہ سگنلز ملے، ملائشیا کے عہدیداروںنے چینی جہاز کو ملنے والے سگنلز کی تصدیق نہیں کی۔ چینی طیارے کو بحر ہند کے جنوب میں سفید رنگ کی چیزیں تیرتی ہوئی بھی دکھائی دی ہیں۔پرتھ سے موصولہ اطلاع کے بموجب کثیر قومی تلاش ٹیم نے آج اپنے بحری جہازوں کو جو جدید ترین آلات سے آراستہ ہیں جنوبی بحرہند روانہ کردیاجہاں چینی بحری جہاز نے حوصلہ افزاء سراغ حاصل کئے ہیں ۔ مبینہ طور پر اُسے لاپتہ طیارے کے بلیک باکس سے اشارے موصول ہوئے ہیں ۔ دو بحری جہاز گہرے پانی میں بلیک باکس تلاش کررہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT