Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / لاپتہ طیارہ میں سوار افراد کے بچنے کی امید نہیں

لاپتہ طیارہ میں سوار افراد کے بچنے کی امید نہیں

سمندر میں باقیات کی تلاش جاری ، مملکتی وزیر دفاع کا بیان
نئی دہلی ۔ 12 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : حکومت نے آج راجیہ سبھا میں بتایا ہے کہ خلیج بنگال میں 22 جولائی کو لاپتہ طیارہ AN-32 میں سوار ایک بھی اہلکار کے زندہ بچنے کی امید نہیں ہے ۔ انڈین ایر فورس کے طیارہ میں سوار 29 افراد کے حشر پر حکومت نے پہلی مرتبہ واضح بیان دیا ہے ۔ وقفہ صفر کے دوران مملکتی وزیر دفاع سبھاش راما راؤ بھامرے نے بتایا کہ یہ حادثہ پیش آئے ہوئے کئی دن گذر گئے اور اب کسی کے بقید حیات ہونے کی امید نہیں ہے ۔ ڈپٹی اسپیکر تھمبا دورائی اور انا ڈی ایم کے ارکان کے سوال پر وزیر موصوف نے یہ جواب دیا اور بتایا کہ ٹرانسپورٹ طیارہ کا ڈھانچہ ( باقیات ) دستیاب ہونے تک تلاشی مہم جاری رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف طیاروں بشمول ایر فورس کے ہیلی کاپٹرس کو تلاشی مہم پر لگادیا گیا ۔ علاوہ ازیں تجارتی جہازوں اور ماہی گیروں سے اس خصوص میں تعاون طلب کیا گیا ہے ۔ اگرچیکہ 30 مختلف اشیاء تیرتی ہوئی پائی گئیں لیکن کوئی ٹھوس ثبوت دستیاب نہیں ہوسکا ۔ مملکتی وزیر دفاع نے لاپتہ طیاروں کی تلاشی میں درپیش مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 8 مارچ 2014 کو لاپتہ ملیشیاء ایرلائنز کی فلائٹ ایم ایچ 370 کا اب تک پتہ نہیں چل سکا جب کہ فرانسیسی ایرلائنز کے طیارہ کی باقیات ایک سال بعد دستیاب ہوئی ہیں ۔ علاوہ ازیں کوسٹ گارڈ کے ڈونیرایرا کرافٹ اور عملہ کے ارکان کی باقیات کئی سال بعد ہاتھ لگی ہیں ۔ واضح رہے کہ حادثہ کا شکار بدقسمت طیارہ AN-32 جس میں 6 عملہ کے ارکان اور 23 فوجی سوار تھے ۔ 22 جلائی کی صبح 8-30 بجے چینائی کے قریب تمبارام فضائی آڈہ سے پورٹ بلیر کے لیے پرواز کیا تھا ۔ لیکن 9 بجے آخری مرتبہ راڈر پر دیکھا گیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT