Monday , December 11 2017
Home / ہندوستان / لاپتہ فوجی کیپٹن ایک ہفتہ بعد نمودار اغوا کی کہانی پر پولیس کو شک و شبہ

لاپتہ فوجی کیپٹن ایک ہفتہ بعد نمودار اغوا کی کہانی پر پولیس کو شک و شبہ

کھتیہار (بہار) 13 فروری (سیاست ڈاٹ کام) نئی دہلی روانگی کے دوران ایک ٹرین سے اچانک لاپتہ ہونے کے ایک ہفتہ بعد فوجی کپتان سکھردیپ آج اترپردیش میں فیض آباد پولیس کے روبرو نمودار ہوگئے۔ سپرنٹنڈنٹ ریلوے پولیس جیتندر کمار نے بتایا کہ انھوں نے ٹیلیفون پر کیپٹن سکھردیپ سے بات کی ہے جوکہ ضلع فیض آباد کے کوتوالی پولیس اسٹیشن میں مجسٹریٹ ہیں۔ فوجی عہدیداران انھیں ڈوگرا کنٹونمنٹ (فیض آباد) لے کر گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سکھردیپ نے آج صبح اپنی بہن سے موبائل پر رابطہ قائم کیا اور یہ اطلاع دی کہ وہ کوتوالی پولیس اسٹیشن فیض آباد میں ہیں۔ بعدازاں اس خاتون نے اپنے والد اننت کمار کو جو کہ لیفٹننٹ کرنل رتبہ کے عہدیدار اور رانچی میں متعین ہیں، یہ اطلاع دی، جنھوں نے ریلوے پولیس سپرنٹنڈنٹ جیتندر کمار مصرا کو اپنے فرزند کے بارے میں مطلع کیا۔ سکھردیپ سے رابطہ قائم کرنے پر اُنھوں نے بتایا کہ پٹنہ جنکشن پر وہ پانی پینے کیلئے مہانندا اکسپریس سے اُترے اور وہاں بے ہوش ہوگئے تھے۔ ہوش میں آنے پر دیکھا کہ نامعلوم مقام پر انھیں کرسی پر بٹھاکر رسیوں سے باندھ دیا گیا ہے ۔ خود کو رسیوں سے آزاد کرکے کافی فاصلے تک بھاگتے ہوئے آئے اور کاماکھیا اکسپریس میں سوار ہوگئے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ فوجی عہدیدار یہ وضاحت نہیں کررہے ہیں کہ کاماکھیا اکسپریس میں وہ کہاں پر سوار ہوئے اور کہاں پر اُترے تھے جبکہ وہ صرف یہ بتارہے ہیں کہ کس طرح فیض آباد پہنچ گئے اور کوتوالی پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوکر اپنا تعارف کروایا۔ فوجی کیپٹن سکھردیپ جنھیں جموں و کشمیر میں متعین کیا گیا ہے، 6 فروری کو کھتیہار سے مہانندا اکسپریس میں سوار ہوئے لیکن دوسرے دن دہلی پہنچے اور ان کا موبائل فون بھی بند پایا گیا تھا۔ اس پر اُن کی گمشدگی کی شکایت ریلوے پولیس میں کی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT