Sunday , January 21 2018
Home / Top Stories / لاپتہ ملائیشیائی طیارہ کی تلاش جاری رکھیں گے : چین

لاپتہ ملائیشیائی طیارہ کی تلاش جاری رکھیں گے : چین

بیجنگ ، 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چین کے وزیر اعظم لی کی چیانگ نے کہا ہے کہ جب تک اُمید کی ذرا سی بھی کِرن باقی ہے، ملائیشیا ایئرلائنز کے لاپتہ طیارہ کی تلاش جاری رکھی جائے گی۔ چینی وزیر اعظم نے یہ بات آج اپنی سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ طیارہ میں سوار افراد کے خاندان اور دوست انتہائی مشکل وقت سے گزر رہے ہیں

بیجنگ ، 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چین کے وزیر اعظم لی کی چیانگ نے کہا ہے کہ جب تک اُمید کی ذرا سی بھی کِرن باقی ہے، ملائیشیا ایئرلائنز کے لاپتہ طیارہ کی تلاش جاری رکھی جائے گی۔ چینی وزیر اعظم نے یہ بات آج اپنی سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ طیارہ میں سوار افراد کے خاندان اور دوست انتہائی مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ اس طیارہ کی تلاش آج چھٹے روز میں داخل ہو گئی لیکن ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ویتنام نے کہا ہے کہ اس طیارہ کی کھوج میں دو ایئرکرافٹ اس مقام کی جانب روانہ کئے گئے جس کی نشاندہی چین کے سٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر سے ہوئی تھی۔ تاہم کوئی کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ ویتنام کے حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ان تصاویر کے مقام کی معلومات جمعرات کو دی گئی جس کے بعد وہاں دو طیارے بھیجے گئے۔ خبر رساں ادارہ روئٹرز کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں کو اس علاقے میں ایسی کوئی چیز نہیں ملی جو لاپتہ طیارہ کے ملبے سے مشابہہ ہو۔

ملائیشیائی طیارہ کی ’ممکنہ باقیات‘ کی تصاویر جاری
چین نے سٹیلائیٹ سے لی گئی کچھ تصاویر جاری کی ہیں جو کہ ’ممکنہ طور پر‘ ملائیشین ایئر لائنز کے لاپتہ طیارہ کی باقیات ہو سکتی ہیں۔ سرکاری ذرائع ابلاغ میں ایک حکومتی بیان جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق یہ تصاویر گزشتہ اتوار کو طیارہ کے لاپتہ ہونے کے ایک دن بعد اتاری گئی تھیں۔ انھیں چہارشنبہ تک جاری نہیں کیا گیا تھا۔ تصاویر میں ملائیشیا اور ویتنام کے جنوبی حصے کے درمیان پانیوں میں تین بڑے حجم کی چیزیں تیرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ یہ جگہ لاپتہ جہاز کے اصل روٹ پر ہی واقع ہے۔ تاہم فی الوقت یہ بتانا مشکل ہے کہ یہ تیرتی ہوئی چیزیں کیا ہیں اور نہ ہی تحقیقات میں شامل کسی اور ایجنسی نے ان تصاویر میں نظر آنے والی چیزوں کی تصدیق کی ہے۔ ملائیشیا ایئر لائنز کا بوئنگ ہفتہ کو کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے اچانک لاپتہ ہو گیا تھا۔ جہاز پر عملے کے ارکان سمیت 239 افراد سوار تھے۔ قبل ازیں ملائیشیا نے لاپتہ جہاز کی تلاش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا تھا۔ وزیر ٹرانسپورٹ ہشام الدین حسین نے بتایا کہ 12 ملکوں کے جہاز اور کشتیاں اب 90 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں تلاش کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

لاپتہ طیارہ کا کوڈ استعمال نہ کرنے کا اعلان
دریں اثناء ملائیشیا ایئرلائنز نے کہا ہے کہ لاپتہ طیارہ کے مسافروں اور عملے کیلئے تعظیم کے اظہار کے طور پر اُس طیارہ کا کوڈ MH370 اور MH371 پھر کبھی استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ان میں سے پہلا کوڈ کوالالمپور سے بیجنگ کی پرواز کیلئے جبکہ دوسرا واپسی کی فلائٹ کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا۔

TOPPOPULARRECENT