Monday , June 18 2018
Home / Top Stories / لاہور ہائی کورٹ نے لکھوی کی درخواست مسترد کردی

لاہور ہائی کورٹ نے لکھوی کی درخواست مسترد کردی

لاہور ۔ 20 ۔ مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کی ایک عدالت نے لشکرطیبہ کے دہشت گرد ذکی الرحمن لکھوی کی ایک درخواست کو مسترد کردیا ہے جس میں لکھوی نے برقراری عوامی نظم قانون کے تحت اپنی حراست کے تازہ ترین احکامات کو چیلنج کیا تھا ۔ لاہور ہائیکورٹ کے جج محمد مقبول باجوا نے 55 سالہ لکھوی کی درخواست کو مسترد کردیا جس کے بعد لکھوی مزید ایک ماہ

لاہور ۔ 20 ۔ مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کی ایک عدالت نے لشکرطیبہ کے دہشت گرد ذکی الرحمن لکھوی کی ایک درخواست کو مسترد کردیا ہے جس میں لکھوی نے برقراری عوامی نظم قانون کے تحت اپنی حراست کے تازہ ترین احکامات کو چیلنج کیا تھا ۔ لاہور ہائیکورٹ کے جج محمد مقبول باجوا نے 55 سالہ لکھوی کی درخواست کو مسترد کردیا جس کے بعد لکھوی مزید ایک ماہ تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے گا ۔ گذشتہ دنوں عدالت نے لکھوی کی رہائی کے احکام جاری کئے تھے ۔ لکھوی کی رہائی سے عین قبل پاکستانی صوبہ پنجاب کی حکومت نے برقراری عوامی نظم قانون کے تحت مزید ایک ماہ تک اسے حراست میں رکھنے کے احکام جاری کئے تھے ۔ قبل ازیں پاکستان کی ایک عدالت نے لشکر طیبہ کے آپریشن کمانڈر اور 2008 ء کے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمن لکھوی کی داخل کردہ درخواست پر اپنا فیصلہ پہلے پہل محفوظ رکھا تھا جس نے سیکوریٹی ایکٹ کے تحت اس کی گرفتاری کو چیلنج کیا ہے ۔ مقدمہ کی سماعت کے بعد عدالت کے ایک عہدیدار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ جج محمود مقبول باجوا نے لکھوی کے وکیل راجہ رضوان عباسی کی جرح کی سماعت کے بعد اپنے فیصلہ کو محفوظ رکھا ہے ۔ عہدیدار کے مطابق فیصلہ کسی بھی وقت سنایا جاسکتا ہے ۔

لاہور ہائی کورٹ میں کل لکھوی نے اپنی گرفتاری کو چیلنج کیا تھا ۔ 14 مارچ کو پنجاب حکومت نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) کے تحت لکھوی کو مزید دس دنوں کیلئے حراست میں لیا تھا قبل اس کے کہ اسے راولپنڈی کی اڈیالا جیل سے لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق رہا کیا جاسکے ۔ 13 مارچ کو لاہور ہائیکورٹ کے جج نورالحق قریشی نے وفاقی حکومت کے اس احکام کو معطل کردیا تھا جس میں 55 سالہ لکھوی کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور مسٹر قریشی نے فوری اس کی رہائی کا حکم جاری کیا ۔ ایم پی او کے تحت چونکہ لکھوی کی گرفتاری کیلئے حکومت کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکی تھی لہذا لکھوی کو مزید حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے لہذا اگر فوجداری کے کسی اور معاملہ میں لکھوی ملوث نہیں ہے تو اسے فوری رہا کیا جائے ۔

ہندوستان نے یہ کہکر لکھوی کی رہائی کے خلاف زبردست احتجاج کیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ میں لکھوی سے متعلق ثبوتوں کو مناسب طور پر پیش نہیں کیا گیا ۔ راولپنڈی کی آڈیالا جیل سے جب لکھوی کو رہا کیا جانے والا تھا بالکل اُسی وقت اسے کو 2009 ء میں ایک افغان شہری کے اغواء معاملہ میں ملوث بتاکر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے لکھوی کی درخواست مسترد کردی ہے اور اس طرح اب اُسے آئندہ ماہ تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی رہنا ہوگا ۔عدالت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ آج عدالت نے لکھوی کی درخواست مسترد کرنے مختصر احکام جاری کئے ۔ تفصیلی حکمنامہ مابعد جاری کیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT