لا1.5 لاکھ سرکاری فائلس تلف ، دلچسپ حقائق کا انکشاف

نئی دہلی ۔ 23 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے پہلے صدر جمہوریہ راجندر پرساد کا وظیفہ اور آنجہانی وزیراعظم لال بہادر شاستری کی تنخواہ سرکاری قدرتی آفات فنڈ میں دی جاتی تھی کیونکہ انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ اس طرح لارڈ ماونٹ بیٹن نے اپنے مقام واپسی کیلئے 64 ہزار روپئے کی رقم بطور ٹی اے ؍ ڈی اے وصول کی۔ ان تاریخی اور دلچسپ حقائق کا انکشاف مرکزی وزارت داخلہ میں موجود فائلوں کے انبار سے ہوا جن کی صفائی کا کام کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی ہدایت پر نارتھ بلاک میں فائلوں کی صفائی کا کام شروع کیا گیا ہے۔ دھول اور گرد میں اٹی ہوئی لاکھوں فائلوں کو دفتر سے نکالا جارہا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق ایک فائل میں یہ انکشاف ہوا کہ ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل لارڈ ماونٹ بیٹن نے اپنے ملک واپسی کیلئے جو الاونس حاصل کیا ہے وہ آج کی رقم کے حساب سے کروڑہا روپئے ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ اب تک 1.5 لاکھ فائلس کو تلف کردیا گیا۔ وزیراعظم نے طویل عرصہ سے رکھی ہوئی فائلوں کو تلف کرنے کی ہدایت دی تھی جس پر یہ کارروائی شروع کی ہے۔ کئی وزارتوں نے قدیم فائلس اور ٹوٹے پھوٹے فرنیچر کو تلف کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ راجندر پرساد نے پنشن وصول کرنے سے انکار کیا تھا چنانچہ اسے سرکاری قدرتی آفات فنڈ میں بھیج دیا گیا اسی طرح لال بہادر شاستری بھی تنخواہ نہیں لے رہے تھے اور اسے بھی قدرتی آفات فنڈ میں بھیج دیا گیا۔ جب عہدیداروں سے پوچھا گیا کہ ان تاریخی حقائق کی حامل فائلس کو محفوظ رکھا جائے گا یا پھر اسے تلف کردیا جائے گا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ مقررہ طریقہ کار کے مطابق تمام فائلس کو 3 زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اہمیت کے لحاظ سے انہیں تلف کیا جارہا ہے تاکہ دفتروں میں فائلس کا بوجھ کم ہوسکے ۔

TOPPOPULARRECENT