لباس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ، عید الفطرکے لئے خریدی کرنا مشکل

حیدرآباد ۔ 16 جولائی ( سیاست نیوز ) ۔ عید اور تہوار کے موقع پر ہرکوئی نئے اور اچھے کپڑے پہنناچاہتے ہیں، خواہ وہ بچے ہوں جوان ہوں یاپھر بوڑھے، ہر کسی کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ وہ عید کے موقع پر نت نئے لبا س زیب تن کریں اور دوستوں سے رشتہ داروں سے ملاقات کریں۔ ماہ رمضان کے ا ختتام پر عید الفطر منائی جاتی ہے اور عید کے دن ہر کوئی نئے لباس میں ن

حیدرآباد ۔ 16 جولائی ( سیاست نیوز ) ۔ عید اور تہوار کے موقع پر ہرکوئی نئے اور اچھے کپڑے پہنناچاہتے ہیں، خواہ وہ بچے ہوں جوان ہوں یاپھر بوڑھے، ہر کسی کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ وہ عید کے موقع پر نت نئے لبا س زیب تن کریں اور دوستوں سے رشتہ داروں سے ملاقات کریں۔ ماہ رمضان کے ا ختتام پر عید الفطر منائی جاتی ہے اور عید کے دن ہر کوئی نئے لباس میں نظر آتے ہیں ۔لیکن لوگوں کونئے لباس خریدنے میں کتنی دشواریاں پیش آتی ہیں اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔ماہ رمضان میں غریب لوگ زکوۃ کے پیسوں سے اپنی عید کی خریدی کرلیتے ہیں یا پھر کوئی اہل خیر حضرات غریبوں کو لباس فراہم کردیتے ہیںیا پھر کوئی مالدار شخص اپنے غریب رشتہ دار وں کو امداد کے ذریعہ نئے لباس فراہم کردیتے ہیں ۔لیکن مِڈل کلاس طبقہ کے لئے عید کے لباس خریدنا ایک چیلنج سے کم نہیں رہا ۔

ایک طرف دولت مند لوگوں سے ربط کے چلتے اُن کی طرح کے لباس زیب تن کرنا مشکل ہے تو دوسری جانب اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے ہیں۔ آج کی موجودہ صورتحال میں کپڑے اور دیگر عید کی ضروری اشیاء اتنی مہنگی ہوگئی ہیں کہ غریب لوگ عید کی خریدی کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔دوسری جانب مِڈل کلاس کے لوگ مہنگائی کے باوجود اپنے اسٹیٹں کو برقرار رکھنے کے لئے قرض حاصل کرکے عید کی خریدی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

مِڈل کلاس فیملی کی ایک خاتون نشاط بیگم نے سیاست کو بتایا کہ وہ عید کی خریدی کے لئے پتھر گٹی گئیں ، اور اپنے بچوں کے لئے لباس خریدے ۔لیکن مہنگائی کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کے لئے میعاری اور بھاری کپڑے نہیں خرید سکیں ۔ نشاط بیگم کے مطابق گذشتہ سال جو ڈریس 1000 روپے میں ملتا تھا آج وہی ڈریس 2000 روپے میں ہوگیا ہے۔پرانے شہر کے شاستری پورم علاقے کی رہنے والی ا س خاتون نے مرکزی حکومت سے سوال کیا ہے کہ اچھے دن کب آنے والے ہیں؟ نشاط کے ساتھ خریدی کے لئے آنے والی دیگر دوخواتین نے بتایا کہ اچھے دن تو دور کی بات ہے اب تو خراب دن آگئے ہیں۔اِن خواتین نے حکومت سے کہا ہے کہ جو وعدہ کیا گیا تھا اُسے پورا کریں اور مہنگائی کو کم کرنے کی جلد ازجلد کوشش کریں۔اسی طرح کئی مِڈل کلاس کے لوگوں نے ہمیں بتایا کہ وہ لوگ اپنے عید کی خریدی کے اخراجات قرض حاصل کرتے ہوئے برداشت کررہے ہیں۔

پرانے شہر کے متوسط طبقے کے ایک شخص نے اپنا نام مخفی رکھنے کی درخواست پر بتایا کہ وہ اپنے بچوںکے عید کے کپڑوں کی خریدی کیلئے اپنی بیوی کے زیور بنک میں رہن رکھا دئیے اور رہن کے ذریعہ حاصل شدہ رقم سے اپنے بچوں کے لئے عید کے کپڑے خریدنے پڑے۔یہاں اس بات کا ذکر بے جانہ ہوگا کہ سونے کے زیورات حاصل کرکے بنک اور خانگی ادارے لوگوں کو قرض فراہم کرتے ہیں اور قرض دی گئی رقم کے حساب سے سود کے ساتھ متعینہ مدد میں واپس حاصل کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے غریب لوگوں کی محنت کی کمائی سود اور Interest میں ضائع ہوجاتی ہے۔اس مسئلہ کا حل ضرور نکل سکتا ہے اگر اہل خیر حضرات ضرورت مندوں کو قرض حسنہ فراہم کریں اور بعد میں بنا سود کے ماہانہ اقساط میں واپس طلب کرلیں۔اس کے علاوہ دولت مند حضرات اپنے قریبی لوگوں میں جو مِڈل کلاس کے ہیں ۔ان کی غائبانہ مدد کریں ۔ کیونکہ یہ لوگ اپنی عزت کی خاطر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھلاتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT