Thursday , July 19 2018
Home / Top Stories / لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ کی 34ویں برسی پر کشمیر میں مکمل ہڑتال

لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ کی 34ویں برسی پر کشمیر میں مکمل ہڑتال

SRINAGAR, FEB 11 :- An Indian police officer plays cricket in a deserted road during a strike called by Kashmiri separatists to mark the death anniversary of Mohammad Maqbool Bhat, founder and leader of Jammu Kashmir Liberation Front (JKLF), a Kashmiri separatist party, who was hanged and buried in an Indian jail on February 11, 1984 on charges of killing an Indian intelligence officer, in Srinagar February 11, 2018. REUTERS-21R

معمولات زندگی معطل ‘علحدگی پسند قائدین قیام گاہوں پر نظربند‘سرینگر اور مضافات میں امتناعی احکام نافذ
سری نگر، 11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں اتوار کو جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے بانی محمد مقبول بٹ کی 34 ویں برسی کے موقع پر مزاحمتی قیادت کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران دارالحکومت سری نگر سمیت وادی کے سبھی ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔مقبول بٹ کو سنہ 1984 میں آج ہی کے دن دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی اور وہیں دفن کیا گیا تھا۔ ان کی برسی پر وادی میں ہر سال علیحدگی پسند جماعتوں کی اپیل پر ہڑتال کی جاتی ہے اور تہاڑ جیل میں مدفون اُن کے باقیات کو لوٹانے کے مطالبے کے لئے احتجاج کیا جاتا ہے ۔مقبول بٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے 14 ستمبر 1966 کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کرائم برانچ سی آئی ڈی کے ایک انسپکٹر امر چند کو قتل کیا۔ کشمیری مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کے علاوہ دیگر متعدد علیحدگی پسند راہنماؤں نے محمد مقبول بٹ کو پھانسی دیے جانے کے 34 برس مکمل ہونے پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ 11فروری کو مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال ہوگی جبکہ اسی دن افضل گورو اور مقبول بٹ کی اجساد خاکی اورباقیات کی واپسی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے مقامی مبصر آفس پر جاکر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام ایک یادداشت بھی پیش کی جائے گی۔قابل ذکر ہے کہ سری نگر کے عیدگاہ علاقہ میں واقع تاریخی مزار شہداء میں دو قبریں افضل گورو اور مقبول بٹ کی باقیات کے لئے خالی رکھی گئی ہیں۔کشمیر انتظامیہ نے مقبول بٹ کی 34 ویں برسی کے پیش نظر علیحدگی پسند راہنماؤں اور کارکنوں کو کسی بھی احتجاجی جلوس یا ریلی کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے بدستور تھانہ یا خانہ نظربند رکھا۔اس کے علاوہ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں حساس مانے جانے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ رکھی گئیں۔ شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ جو کہ مقبول بٹ کا آبائی ضلع ہے ، کے مختلف حصوں بالخصوص آبائی گاؤں ترہگام میں بھی کرفیو جیسی پابندیاں نافذ رکھی گئیں۔ترہگام میں لوگوں نے گذشتہ رات مقبول بٹ کی برسی کے سلسلے میں ایک شبانہ جلوس نکالا جو بعدازاں پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر وادی بھر میں ریل سروس معطل رکھی گئی۔اس دوران ریاستی پولیس نے اتوار کو قریب ایک درجن علیحدگی پسند راہنماؤں و کارکنوں کو گرفتار کرکے ان کا اقوام متحدہ کے مقامی مبصر کے دفتر تک مارچ ناکام بنادیا۔ مختلف علیحدگی پسند جماعتوں بالخصوص جے کے ایل ایف سے وابستہ درجنوں رہنماؤں و کارکنوں نے اتوار کی صبح مائسمہ میں سیکورٹی پابندیاں توڑتے ہوئے سونہ وار میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب پیش قدمی شروع کی۔تاہم وہاں پہلے سے موجود سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی بھاری نفری نے مزاحمتی کارکنوں کی پیش قدمی روکتے ہوئے قریب ایک درجن رہنماؤں و کارکنوں کو حراست میں لیا۔اس موقع پر عہدیداروں نے آج پورے علاقہ میں تحدیدات عائد کردی تھیں ۔ سرینگر ‘ کپواڑہ ‘ مہاراج گنج ‘ میسومہ ‘ نوہٹا ‘ ریناواڑی اور صفا کدل میں امتناعی احکام نافذ تھے ۔ چار یا چار سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر امتناع عائد کیا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT