Friday , June 22 2018
Home / دنیا / لبنانی شہریوں کو اسرائیل کیخلاف مزاحمت کا حق حاصل

لبنانی شہریوں کو اسرائیل کیخلاف مزاحمت کا حق حاصل

بیروت ۔ 15 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ۔ لبنان کی نئی حکومت نے اسرائیل کے تمام شہریوں کو اسرائیل کی توسیع پسندانہ کارروائیوں کیخلاف مزاحمت کا حق دے دیا ہے۔ نئی حکومت نے یہ فیصلہ ایک ہفتے پر پھیلے بحث مباحثے کے بعد کیا ہے۔ اسرائیل کے بارے میں اس فیصلے کے بعد وزیر اعظم تممم سلام کیلیے اعتماد کے ووٹ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔وزیر اطلاعات رمزی جری

بیروت ۔ 15 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ۔ لبنان کی نئی حکومت نے اسرائیل کے تمام شہریوں کو اسرائیل کی توسیع پسندانہ کارروائیوں کیخلاف مزاحمت کا حق دے دیا ہے۔ نئی حکومت نے یہ فیصلہ ایک ہفتے پر پھیلے بحث مباحثے کے بعد کیا ہے۔ اسرائیل کے بارے میں اس فیصلے کے بعد وزیر اعظم تممم سلام کیلیے اعتماد کے ووٹ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔وزیر اطلاعات رمزی جریجی نے ہفتے کے روز میڈیا کو بتایا ”یہ فیصلہ کثرت رائے سے کابینہ نے کیا ہے کہ ہر لبنانی شہری کو اسرائیل کی قبضانہ کوششوں کی مزاحمت کرنے کا حق ہو گا۔ ” لبنان حکومت کی طرف سے یہ فیصلہ اسرائیل کے اس اعلان کے صرف چند گھنٹے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اسرائیل نے ہفتے کے روز یہ تسلیم کیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان پر ٹینکوں سے گولے فائر کیے ہیں۔اسرائیل نے یہ گولے فائر کرنے کا جواز ان بموں کے چلائے جانے کو بتایا ہے

جو اسرائیل کے بقول اس کے گشت پر مامور فوجیوں پر لبنانی علاقے سے پھینکے گئے تھے۔ تاہم دونوں جانب سے کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کوئی فوجی زخمی ہوا ہے۔اس سے پہلے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2006 میں ایک جنگ ہو چکی ہے۔ لبنانی حکومت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ” لبنانی اقتدار اعلی اور خود مختاری کی حفاظت، آزادی کا تحفظ اور علاقائی سلامتی کا دفاع اور اپنے شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت کرنا ریاستی ذمہ داری ہے۔”بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ناطے حکومت اپنی ذمہ داری نبھانے کا تہیہ کیے ہوئے ہے، اس لیے تمام جائز طریقوں سے شیبافارمز اور کافر شوبا ہلز کی آزادی کے لیے کوشش کرنا حکومتی ذمہ داری ہے، حکومت اس حوالیسے لبنانی شہریوں کے اس امر کی بھی تائید کرتی ہے کہ شہری اسرائیلی قابضانہ کوششوں، جارحیت کو روکنیاور اپنے علاقے آزاد کرانے کا حق رکھتے ہیں۔”لبنانی حکومت کا یہ جاری کیا گیا بیان شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی زیر قیادت اتحاد اور سنی مخالفین کے درمیان سمجھوتے کے بعد ممکن ہوا ہے۔ اس سے پہلے لبنان کی شیعہ ملیشیا اور سنی عوام کے درمیان شام کی خانہ جنگی کی وجہ سے تناو میں اضافہ ہو چکا تھا۔ وزیر اطلاعات کے مطابق کابینہ کے بعض ارکان نے اس فیصلے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT