Monday , April 23 2018
Home / مذہبی صفحہ / لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو یاد کرو

لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو یاد کرو

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : ’’لذتوں کو ختم کردینے والی چیز موت کو اکثر و بیشتر یاد کیا کرو ‘‘۔ اس حدیث شریف میں موت کو یاد کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ موت کی تمنا کرے یا مرنے کی دُعا کرے کیونکہ حضور پاک ﷺ نے مرنے کی تمنا کرنے اور موت کی دعا مانگنے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ نسائی شریف میں ہے حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایاتم میں سے کوئی شخص کسی دنیاوی تکلیف یا مصیبت کی وجہ سے ہرگز موت کی تمنا نہ کرے بلکہ اس طرح دعا کرے : ’’اے اﷲ ! جب تک زندگی میرے لئے بہتر ہے اس وقت تک مجھے زندہ رکھ اور جب موت بہتر ہو تو موت دیدے ‘‘۔ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ مثنوی شریف میں فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار عالی میں ایک آدمی گھبرایا ہوا حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا ۔ حضور ہوا کو حکم دیجئے ، مجھے سرزمین ہند میں پہنچادے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا : بات کیا ہوئی ، یہاں سے کیوں جانا چاہتے ہو ؟ وہ کہنے لگا ، حضور : ابھی بھی میں نے ملک الموت کو دیکھا ہے جو مجھے گھور گھورکر دیکھ رہا تھا ، میری خیر نہیں مجھے ابھی ہندوستان پہنچادیجئے ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہوا کو حکم دیا تو ہوا فوراً اس کو ہندوستان چھوڑ آئی۔ حضرت ملک الموت پھر جب حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں پہنچے تو آپ نے فرمایا اے ملک الموت تم فلاں کو کیوں گھور گھور کر دیکھ رہے تھے ۔ ملک الموت نے کہا ، حضور : خدا کامجھے حکم تھا کہ اس کی جان سرزمین ہند میں قبض کروں ۔ میں حیران تھا کہ اس کی جان ہند میں قبض کرنے کو فرمایا گیا ہے اور یہ یہاں آپ کے پاس کھڑا ہے میں اسی حیرانی میں اسے دیکھ رہا تھا کہ خود ہی اس نے ہند جانے کی تمنا ظاہر کردی ۔ جیسے ہی وہ سرزمین ہند پر اُترا میں نے اس کی روح قبض کرلی ۔

TOPPOPULARRECENT